ہواوے ٹیکنالوجیز کی سی ایف او مینگ وان ژو کی وطن واپسی

0

ہواوے ٹیکنالوجیز کی سی ایف او مینگ وان ژو  کینیڈا میں تقریباتین سال زیرِ حراست رہنے کے بعد ، چوبیس ستمبر کو کینیڈا سے چین کے لیے روانہ ہوئیں ۔ان کی وطن واپسی کے لیے چینی حکومت نے ایک چارٹرڈ  فلائٹ کا انتظام کیا ہے  جس کے ذریعے وہ بیجنگ وقت کے مطابق ہفتے کی رات شین زن پہنچیں گی۔ 

 مینگ وان ژو کینیڈا میں  گھر میں نظربند تھیں۔ امریکی محکمہ انصاف نے ان کی حوالگی کی درخواست مسترد کردی ہے،لہذا  جمعے کو اس نظر بندی کے خاتمے کے بعد انہوں نے چین ، اور کینیڈا کے عوام ، میڈیا اور حکومتوں کا بے حد شکریہ ادا کیا ۔

انہوں نے کہا ، “پچھلے تین سالوں میں ، میری زندگی تہہ و بالا ہو کر رہ گئی ، ایک ماں ، بیوی اور ایک کمپنی ایگزیکٹو کی حیثیت سے میرے لیے یہ بے حد کٹھن وقت تھا۔ لیکن یہ میری زندگی کا ایک بیش بہا  تجربہ تھا۔میں دنیا بھر کے لوگوں کی طرف سے موصول ہونے والی تمام نیک خواہشات کو کبھی نہیں بھولوں گی۔ جیسا کہ کہاوت ہے ، جتنی بڑی مشکل ہوگی ، اتنی ہی زیادہ بالیدگی ہوگی۔”

مینگ کے  وکلاء میں سے ایک ولیم ٹیلر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مینگ وان ژو نے  اپنے اوپر لگائے گئے دھوکہ دہی کے الزامات کا اعتراف نہیں کیا ہے ۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان  چاولی جیان نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پر کہا کہ وہ مینگ وان ژو کی وطن  واپسی کا خیرمقدم کرتے ہیں ۔

مینگ وان ژو ، ہواوے کے بانی رین ژینگ فی کی بیٹی ہیں ،ان  کو امریکہ کی درخواست پر دسمبر 2018 میں کینیڈا کی پولیس نے اس وقت وینکوور  کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر گرفتار کیا جب وہ میکسیکو جا رہی تھیں  ۔

SHARE

LEAVE A REPLY