چین نے یکساں خیالات رکھنے والے ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے انسانی حقوق کونسل میں تقریر کرتے ہوئے حقیقی کثیرالجہتی پر عمل درآمد اور انسانی حقوق کو صحیح معنوں میں فروغ دینے اور ان کا تحفظ کرنے پر زور دیا

0

بیس ستمبر کو جنیوا میں اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے چھن شو نے انسانی حقوق کونسل کے 48 ویں سیشن میں جمہوری اور منصفانہ بین الاقوامی نظام پر آزاد ماہرین کے ساتھ باہمی بات چیت کے دوران یکساں خیالات رکھنے والے ممالک کی جانب سے خطاب کیا ۔انہوں نے  تمام فریقوں پر زور دیا  کہ وہ کثیرالجہتی نظام پر عمل کریں، بین الاقوامی نظام کی ترقی کو زیادہ منصفانہ اور معقول سمت میں آگے بڑھا ئیں ۔ 
مشترکہ تقاریر میں کہا گیا کہ تمام فریقوں کو انصاف کی پاسداری کرنی چاہیے ، اقوام متحدہ کی قیادت میں بین الاقوامی قانون پر مبنی بین الاقوامی نظام کی مضبوطی سے حفاظت کرنی چاہیے ، اور غنڈہ گردی ، یکطرفہ پسندی  اور دوہرے معیار ات کی مخالفت کرنی چاہیے۔ تعاون ، مساوات اور باہمی احترام  کی بنیاد پر  بات چیت کے ذریعے تعاون کو آگے بڑھانا چاہیے ، مشاورت اور بات چیت کے ذریعے اختلافات کو حل کرناچاہیے  ، تعاون کے ذریعے عالمی سلامتی کو حاصل کرنا چاہیے ، مشترکہ ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینا چاہیے ، کھلے پن اور رواداری پر قائم رہنا چاہیے ، تہذیبوں کے تنوع کا احترام کرنا چاہیے ، ہر ملک کی طرف سے آزادانہ طور پر منتخب کردہ ترقیاتی  راستے کا احترام کرنا چاہیے ، اور اپنے معاشرتی نظام اور ماڈلز  کو دوسروں پر مسلط کرنے  ، تقسیم اور تصادم پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ انسانی حقوق کے میدان میں ، تمام فریقوں کو آفاقی ، منصفانہ ، معروضی  اصولوں کو برقرار رکھنا چاہیے ، یکجہتی ، تعاون اور مساوی مکالمے کو مضبوط بنانا چاہیے ، انسانی حقوق کے مسائل پر سیاست کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔ 
 

SHARE

LEAVE A REPLY