افغانستان سے امریکی انخلاء ذمہ داری کا خاتمہ نہیں بلکہ سبق سیکھنے اور اصلاح کا آغاز ہے

0

امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر کینتھ میکنزی نے 30 اگست کو اعلان کیا کہ امریکی فوج نے افغانستان سے انخلا کا کام مکمل کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی  تقریباً 20 سال کی فوجی کاروائیوں کا خاتمہ بھی ہوا جو امریکی فوج نے 2001 میں 11 ستمبر کے دہشت گرد حملے کے بعد افغانستان میں شروع کی تھیں۔ تاہم ، امریکی فوج اور اس کے اتحادیوں کی افغانستان میں گزشتہ 20 سالوں کے دوران شہریوں کے اندھا دھند قتل کی تاریک تاریخ کو اتنی آسانی سے  کیسے مٹایا جا سکتا ہے؟احمد افغان 26 اگست کو افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ہوائی اڈے پر بم دھماکے کے گواہوں میں سے ایک تھا۔ حال ہی میں ، چائنا میڈیا گروپ کی پشتو سروس  کے رپورٹر کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے یاد دلایا: “پہلے ایک دھماکہ ہوا ، اور پھر امریکی فوج نے لوگوں کے ہجوم پر گولی باری شروع کر دی۔ وہ بہت وحشی تھے ، وہ دہشت گرد تھے۔” ابھی تک ، کابل ایئرپورٹ دھماکے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔کابل ایئرپورٹ پر دہشت گرد دھماکے کی جائے وقوعہپچھلے 20 سالوں میں امریکی فوج کے ہاتھوں افغانستان میں شہری ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے ۔امریکی فوج یہاں تک تسلیم کرتی ہے کہ شہریوں کا نقصان بھی اس کی فوجی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ 16 اگست کو کابل  ہوائی اڈے پر افغان عوام کی ایک بڑی تعداد نے رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کی۔امریکی فوج نے براہ راست ان شہریوں پر فائرنگ کا حکم دیا جس کے نتیجے میں  کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ دس دن بعد 26 اگست کو کابل  ہوائی اڈے پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں امریکی فوج نے ایک بار پھر اپنی بندوقیں افغان شہریوں کی طرف اٹھائیں۔”افغانستان سے نکلنے سے پہلے امریکہ کتنی جانیں لے گا؟” نیٹیزین کے دلسوز سوالات کا سامنا کرتے ہوئے ، امریکی میڈیا نے  اجتماعی خاموشی کا انتخاب کیا۔30 اگست کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان سے متعلق قرارداد کے مسودے پر ووٹ دیا۔ جیسا کہ اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل نمائندے گنگ شوانگ نے ووٹ کے بعد اپنی تقریر میں زور دیا  ہے: افغانستان میں حالیہ افراتفری براہ راست غیر ملکی فوجوں کی جلد بازی اور بے ترتیب انخلاء کی وجہ سے ہے۔ امید ہے کہ متعلقہ ممالک اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کہ انخلاء ذمہ داری کا خاتمہ نہیں بلکہ سبق سیکھنے اور اصلاح کا آغاز ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY