عالمی ماہرین کی وائرس سراغ کے حوالے سے “لیبارٹری لیک” جیسے سازشی نظریات کی مخالفت

0

امریکی جریدے “سیل” میں متعدد ممالک کے سائنسدانوں کا ایک جائزہ مضمون شائع ہوا ہے جس میں نوول کورونا وائرس کے سراغ سے متعلق خیالات کا اظہار کیا گیا ہے ۔ماہرین کی جانب سے سائنسی شواہد کی بنیاد پر وائرس سراغ کے حوالے سے یہ اہم کاوش ہے۔ یہ مضمون “لیبارٹری لیک” جیسے سازشی نظریات کی سختی سے تردید کرتا ہے جس کی وکالت کچھ امریکی سیاستدان کرتے ہیں ۔ مضمون میں  انسانوں میں نوول کورونا وائرس کی منتقلی کا اہم سبب جانوروں کو قرار دیا گیا ہے ۔یہ مضمون دنیا کے 20 سے زائد معروف سائنس دانوں کی مشترکہ کاوش ہے۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ ایسے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں کہ نوول کورونا وائرس کے پھیلاو سے قبل ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی یا دیگر لیبارٹریز  میں اس وائرس پر تحقیق کی جا رہی تھی۔مضمون میں نوول کورونا وائرس کے قدرتی ارتقاء کی حمایت کرنے والے شواہد کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ زیادہ تر وائرس جو انسانوں کو متاثر کر سکتے ہیں وہ جانوروں کے امراض سے وابستہ ہیں۔مضمون میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ فی الحال اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے کہ نوول کورونا وائرس لیبارٹری میں تیار کیا گیا ہے اور نہ ہی ووہان میں اس وائرس سے متعلق تحقیق کے شواہد ملے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY