افغان خانہ جنگی کے دوران وسیع پیمانے پر عام شہریوں کی ہلاکتیں

0

امریکی براؤن یونیورسٹی کے”کاسٹ آف وار ” پروجیکٹ کے اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2001 کے بعد سے ، امریکہ کی جانب سے افغانستان میں شروع کردہ جنگ میں براہ راست تقریباً دو لاکھ اکتا لیس ہزار اموات ہوئیں ، جن میں سے 71000 سے زائد عام شہری تھے۔ افغانستان کی کابل یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق ، ملک میں خانہ جنگی کی وجہ سے یومیہ اوسطاً  250 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

图片默认标题_fororder_00

جولائی کے وسط میں اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کی ایک پریس کانفرنس میں خبردار کیا گیا تھا کہ بڑھتے ہوئے تنازعات شہریوں کے بے گھر ہونے کا سبب ہیں۔ اندازے کے مطابق جنوری 2021 سے اب تک دو لاکھ ستر ہزار افغانی شہری عدم تحفظ اور تشدد کی وجہ سے اندرونی طور پر نقل مکانی کر چکے ہیں ، جس سے مجموعی طور پر 35 لاکھ  سے زائد آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔  افغان جنگ کے دوران تقریباً  11 ملین افغان شہری مہاجر بن چکے ہیں۔

图片默认标题_fororder_99

اقوام متحدہ کے متعلقہ اعداد و شمار کے مطابق ، گزشتہ 20 سالوں میں اگرچہ افغانستان میں کچھ ترقی بھی ہوئی ہے ، مگر کچھ اہم اشاریے نمایاں طور پر زوال پزیر ہوئے ہیں۔ آج ، افغانستان کی فی کس جی ڈی پی دنیا میں 213 ویں نمبر پر ہے  بے روزگاری کی شرح 50 فیصد سے زائد ہے ، غربت کی شرح 70 فیصد سے زیادہ ہے اور اوسط متوقع عمر صرف 53.25 سال ہے ، جو دنیا میں بدترین درجے پر ہے۔ 

图片默认标题_fororder_88

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن کی جانب سے اپریل میں جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا  کہ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں 573 شہری ہلاک اور 1210 زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد میں پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں  29 فیصد کا اضافہ ہوا۔ خواتین اور بچوں کی ہلاکتوں کی شرح میں بالترتیب 37 فیصد اور 23 فیصد  کا اضافہ ہوا ہے۔ 

图片默认标题_fororder_77
SHARE

LEAVE A REPLY