صدر شی جن پھنگ کی عراقی صدر کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت

0

چینی صدر شی جن پھنگ نے 18 اگست کو عراقی صدر برھم صالح  کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ عراق عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والے پہلے عرب ممالک میں سے ایک تھا، اور یہ مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ میں “دی بیلٹ اینڈ روڈ” کی مشترکہ تعمیر میں چین کا ایک اہم کوآپریٹو پارٹنر بھی ہے۔ چین قومی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کی حفاظت میں عراق کی مضبوطی سے حمایت کرتا ہے، چین عراقی عوام کے آزادانہ طور پر منتخب کردہ ترقیاتی راستے کا احترام  کرتا ہے، اور عراق کے اندرونی معاملات میں کسی بھی بیرونی قوت کی مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔ امید ہے کہ عراق کے مختلف گروہ اتحاد کو مضبوط کریں گے، ملکی سیاسی عمل میں نئی ​​پیش رفت کو فروغ دیں گے اور طویل مدتی استحکام، خوشحالی اور ترقی حاصل کریں گے۔ چین عراق سمیت دوست ممالک کے ساتھ مل کر امن اور ترقی کو فروغ دینے اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔
جناب برھم صالح نے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے قیام کی 100 ویں سالگرہ چین اور دنیا کے لیے سنگ میل کی اہمیت کا ایک اہم واقعہ ہے، انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ چین مستقبل کے سفر میں نئی ​​اور بڑی کامیابیاں حاصل کرےگا. عراق اپنی قومی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے چین کے اقدامات کو سمجھتا ہے اور ایک چین کی پالیسی پر مضبوطی سے عمل پیرا ہے۔ عراق معیشت کی تعمیر نو اور انسداد وبا کی جنگ میں چین کی مدد کا شکریہ ادا کرتا ہے، اور عراق اور چین کے درمیان دوستانہ تعلقات کو گہرا کرنے، دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعاون کو  آگے بڑھانے کے لیے آمادہ ہے۔عراق چین کے ساتھ مل کر قریبی اسٹریٹجک رابطے کو برقرار رکھنے ، بین الاقوامی اور علاقائی صورتحال میں تیزی سے تبدیلیوں کا مشترکہ جواب دینے، دہشت گردی سے نمٹنے میں تعاون کرنے اور علاقائی اور عالمی امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY