جھوٹی خبریں پھیلانے والا سب سے بڑا ملک اپنے بوئے ہوئے بیج کا تلخ پھل کھا رہا ہے

0

وبا پھوٹنے کے بعد وائٹ ہاؤس نے مختلف فرقوں کے انتباہ کو نظر انداز کیا اور انسدادِ وبا کا بہترین موقع کھو دیا۔انسداد وبا میں انتظامی نااہلی کے برعکس امریکی سیاستدان جھوٹی خبریں پھیلانے میں کافی مہارت رکھتے ہیں۔
لوگوں کو یاد ہے کہ سابق امریکی صدر نے بار بار “فیک نیوز” کا تذکرہ کیا ،لیکن وہ خود سوشل میڈیا اور نیوز کانفرنسز میں جھوٹی خبریں پھیلاتے رہے ۔ان کا کہنا تھا کہ کووڈ-۱۹ کی وبا “فلو” جیسی ہے، اور وہ” گرمیوں کی وجہ سے خود بخود  ختم ہو جاتی ہے”۔بعض امریکی شہری ان پر یقین کر کے اپنی جان بھی گنوا بیٹھے ۔
 “دی کورنل الائنس آف سائنس ”  کی جاری کردہ ایک رپورٹ سے ظاہر ہے کہ پچھلے سال جنوری سے مئی تک پوری دنیا میں انگریزی ذرائع ابلاغ پر کووڈ-۱۹ سے متعلق  تین کروڑ اسی لاکھ سے زائد مضامین میں سے ۱۱ لاکھ  غلط معلومات پر مشتمل تھے۔ امریکی ماہرین نے نشاندہی کی کہ کووڈ-۱۹ سے متعلق غلط معلومات انسداد وبا میں امریکہ کی ناکامی کا ایک اہم سبب ہیں۔     
بعض امریکی سیاستدان ذاتی مفادات کی بنیاد پر  اس جھوٹ کو پھیلایا اور انسداد وبا کے  معاملے میں امریکہ کو گمراہ کیا ،مزید یہ کہ اس سے انسداد وباکےعالمی تعاون کو بھی نقصان پہنچا۔ 

SHARE

LEAVE A REPLY