کورونا وائرس کے ماخذ کا سراغ لگانےکے حوالے سےغیر ملکی سفراء کے لیےچینی وزارتِ خارجہ کی بریفنگ

0

تیرہ اگست کو ، چینی وزارت خارجہ نے چین میں غیر ملکی سفراء کے لیے کورونا وائرس کے ماخذ کاسراغ لگانے کے بارے میں ایک بریفنگ دی جس میں  وزارت خارجہ ، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی ، ہیلتھ کمیشن ، چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر متعلقہ محکموں کےعہدیداران نے عالمی انسداد وبا اور ٹریس ایبلٹی تعاون میں چین کی شرکت سے متعارف کرواتے ہوئے چین کے موقف کو واضح کیا اور بیرونی خدشات کا جواب دیا۔ ڈبلیو ایچ او سیکریٹریٹ نے حال ہی میں ،رکن ممالک سے مشاورت کے بغیر دوسرے مرحلے کا ٹریس ایبلٹی ورک پلان تجویز کیا  جس پر اب تک 30 سے ​​زائد ممالک نے اعتراضات یا تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بریفنگ میں ، نائب وزیر خارجہ ما ژاؤسو نے نشاندہی کی کہ یہ منصوبہ چین-ڈبلیو ایچ او، مشترکہ تحقیقی رپورٹ پر مبنی نہیں تھا اور دوسرے مرحلے کے منصوبے میں مذکورہ رپورٹ میں موجود سائنسی نتائج اور سفارشات کو اختیار نہیں کیا گیا۔ ما ژاؤسو نے عالمی ٹریس ایبلٹی کے مسئلے پر چین کے چار نکاتی موقف کی وضاحت کی۔ پہلا نکتہ یہ ہے کہ  ، نوول کورونا وائرس کے ماخذ کا سراغ لگانا ایک سائنسی مسئلہ ہے ، اور اس کا تعین سائنسدان ہی کر سکتے ہیں ۔دوسرا ، چین-ڈبلیو ایچ او کی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ بین الاقوامی برادری اور سائنسی برادری کی طرف سے تسلیم شدہ اتفاق رائے  ہے۔ان  نتائج اور سفارشات کا احترام کرنا چاہیے اور ڈبلیو ایچ او سیکریٹریٹ سمیت تمام فریقوں کو اس کا اطلاق کرنا چاہیے ۔تیسرا ، چین ہمیشہ سائنسی ٹریس ایبلٹی کی حمایت کرتا ہے اور کرتا رہے گا ۔چوتھا ، عالمی ٹریس ایبلٹی ورک ،ڈبلیو ایچ او  کےرکن ممالک کی طرف سے کیا جانا چاہیے ۔بیرونی شکوک و شبہات جیسے کہ ،چین نے ابتدائی کیسز کا اصل ڈیٹا فراہم نہیں کیا ،اس کے جواب میں  چین-ڈبلیو ایچ او جوائنٹ ریسرچ ایکسپرٹ گروپ آف ٹریس ایبلٹی کے چینی سربراہ لیانگ ون نین نے نشاندہی کی کہ  جنوری میں مشترکہ ٹریس ایبلٹی ریسرچ کے دوران چینی فریق نے ووہان میں 174 ابتدائی کیسز کا اصل ڈیٹا  ،جوائنٹ ریسرچ ایکسپرٹ گروپ میں  ڈبلیو ایچ او کے ماہرین کو فرداً فرداً  دکھایا۔لیکن مریضوں کی ذاتی معلومات کی رازداری کا تحفظ کرنے  کے  بین الاقوامی اصول کے تحت غیر ملکی ماہرین نے اصل ڈیٹا کو کاپی نہیں کیا ۔امریکہ اور دیگر ممالک  نے حقائق کو نظر انداز کرکے، چین پر الزام لگایا کہ وہ ماخذ کا سراغ لگانے سے انکار کر رہا ہے  اور  انہوں نے نام نہاد “لیب لیک تھیوری” کو ہوا دی۔ نائب وزیر خارجہ ما ژاؤسو نےکہا کہ امریکہ نے ایک طرف اپنے ملک میں  وائرس کا سراغ لگانے کے دروازوں کو  بند کیا ہوا ہے ، تاہم دوسری طرف  چین میں ایک بار پھر وائرس کا سراغ لگانے پر زوردے رہا ہے ،کیا یہ معقول عمل ہے؟ درحقیقت ، امریکہ وہ ملک ہے جہاں سب سے زیادہ  وائرولوجی لیبز موجود  ہیں۔ حال ہی میں 25 ملین چینی باشندوں نے مشترکہ طور پر فورٹ ڈیٹریک بائیو لیب کی تحقیقات کی درخواست پر دستخط کیے۔امریکہ فورٹ ڈیٹریک کو کھولنے کی ہمت کیوں نہیں کرتا؟ چینی عوام جواب کےحق دار ہیں۔ اگر امریکہ کے دل میں کوئی چور نہیں ہے تو اسے ڈبلیو ایچ او کو ،  ڈی بورگ اور نارتھ کیرولائنا یونیورسٹی میں ٹریس ایبلٹی کی دعوت دینی چاہیے۔ “وزارتِ خارجہ کی اس آن لائن اور آف لائن بریفنگ میں 160 سے زائد غیر ملکی سفرائے کرام اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ چین میں روسی سفیر جینی سوف نے اجلاس میں کہا کہ: “روس ،وائرس کے ماخذ کے امور میں کسی بھی قسم کی سیاست کی مخالفت کرتا ہے۔ بین الاقوامی برادری کو اب وائرس کاسراغ لگانے پر شفاف کثیرالجہتی تعاون کو فروغ دینا چاہیے ۔صرف سائنسی اعداد و شمار کی بنیاد پر تحقیق کرنے سے ہی ڈبلیو ایچ او ،ایک بین الاقوامی ادارےکے طور پر وبا کو شکست دینے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے اور  غیر جانبدارانہ تحقیق سے ہی قابل اعتماد نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ “

SHARE

LEAVE A REPLY