امریکہ بحیرہ جنوبی چین کے امور میں مداخلت کا مجاز نہیں ہے ،چین

0

اقوام متحدہ میں تعینات  چین کے مستقل مشن کے  قائم مقام چارج ڈی افیئرز دائی بینگ نے نو تاریخ کو  سلامتی کونسل کے سمندری سلامتی کے  امور  پر منعقدہ اجلاس میں شرکت کی۔انہوں نے اس موقع پر کہا کہ امریکہ ایک بیرونی ملک کے طور پر  بحیرہ جنوبی چین میں اپنے جدید جنگی جہاز لاتا ہے، اور  چین کے خلاف اشتعال انگیز اقدام اپناتا ہے، یہ  بحیرہ جنوبی چین کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے۔ امریکہ  بحیرہ جنوبی چین کے امور میں مداخلت کا مجاز نہیں ہے۔ دائی بینگ نے واضح کیا کہ  بحیرہ جنوبی چین کے امور پر بات کرنے کے لیے  سلامتی کونسل  مناسب فورم نہیں ہے۔ امریکہ سمندری قانون سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن میں شامل تک نہیں ہے لیکن خود کو اس  کنونشن کا جج سمجھتے ہوئے  دوسرے ممالک کے امور میں دخل اندازی کر رہا ہے۔ امریکہ  کی جانب سے سلامتی کونسل میں بحیرہ  جنوبی چین  کے ثالثی کیس  کو ہوا دینا صریحاً سیاسی مقصد کے لئے ہے۔ بحیرہ  جنوبی چین کے ثالثی کیس ٹربیونل نے “ریاستی رضامندی” کے اصول کی خلاف ورزی کی ہے ۔ حقائق کی کھوج اور قانون کے اطلاق میں واضح غلطیاں موجود ہیں۔ یہ ثالثی  مکمل طور پر باطل ہے۔دائی بینگ نے کہا کہ سمندری سلامتی کا تحفظ دنیا کے  امن اور استحکام ، ترقی اور  خوشحالی کے لئَے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ چین سمندری سلامتی پر  انتہائی توجہ دیتا ہے ، تعاون اور  مشترکہ مفادات کے اصول پر زور دیتا ہے اور مساوات ، باہمی اعتماد، انصاف ، مشترکہ تعمیر اور اشتراکی سیکیورٹی ماحول کی تشکیل کے لئے کوشاں ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY