چین میں پہلا کیس رپورٹ ہونے سے پہلے ہی نوول کورونا وائرس دنیا میں کہیں اور موجود تھا۔ تحقیقاتی رپورٹ

0

ایک حالیہ تحقیقی مقالے میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ کووڈ-۱۹ چین کے شہر ووہان میں باضابطہ طور پر شناخت ہونے سے پہلے ہی ،اٹلی میں پھیل چکا تھا۔ اس تحقیق نے کووڈ-۱۹ کے ماخذ کے حوالے سے مزید سوالات کو جنم دیا ہے ۔ جب سے کووڈ- ۱۹ کی وبا پھوٹی ہے  دنیا بھر کے سائنسدان اس وائرس کی وجہ بننے والے سارس کوو-۲  پر تحقیق کر رہے ہیں ۔ ماضی کے کئی کیسز ، خون کے نمونوں حتی کہ سیوریج کے نمونوں پر کی جانے والی متعدد تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ چین میں پہلا کیس رپورٹ ہونے سے پہلے ہی یہ وائرس دنیا میں کہیں اور موجود تھا۔  عالمی سطح پر کووڈ-۱۹ کے ماخذ پر تحقیق کرنے والی عالمی ادارہِ صحت  کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں چینی ٹیم کے سربراہ ، لیانگ وان نیئن  نے گزشتہ ماہ پنے بیان میں کہا تھا کہ دنیا بھر میں کی جانے والی حالیہ تحقیقات سے جو مثالیں سامنے آئی ہیں  ان سے عیاں ہے کہ سارس کوو-۲ کا آغاز ووہان سے نہیں ہوا ہے ۔ ۱۴جنوری سے ۱۰ فروری تک عالمی ادارہ  صحت اور چین کے ۳۴ ماہرین نے مشترکہ طور پر ووہان میں ۲۸ دن تک تحقیقات کیں ۔ اس تحقیق کے بعد جہاں ایک طرف ماہرین نے ” لیب لیک” کے نظریے کو ” انتہائی ناممکن” کہہ کر رد کیا وہیں انہوں نے عالمی طور پر اولین کیسز کو تلاش کرنے کے لیے مزید تحقیقات کرنے کی سفارش بھی کی ۔   “

SHARE

LEAVE A REPLY