وائرس سے نمٹنے میں سیاست انتہائی خطرناک عمل ہے ۔ پاکستانی ماہر آصف نور

0

پاکستان کے  انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ ڈپلومیسی اسلام آباد کے ڈائریکٹر محمد آصف نور  نے حال ہی میں ایک مضمون میں کہا کہ امریکہ سمیت مغربی ممالک سائنسی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے کووڈ-۱۹ وائرس کے ماخذ کی تلاش اور وبا کو سیاسی رنگ دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں  ،یہ عمل وائرس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے ۔

آصف نور نے کہا کہ چین نے نہ صرف کامیابی سے ملک میں وبا پر قابو پایا ہے بلکہ عالمی ادارہ صحت اور عالمی برادری کے ساتھ وائرس کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کیا ہے اور پاکستان سمیت متعدد ممالک کے لیے ہنگامی سازوسامان فراہم کیا ہے ۔ دوسری جانب چین کو کچھ ممالک کی جانب سے الزام تراشی اور سازشوں کا مسئلہ درپیش ہے ۔ امریکہ سمیت مغربی ممالک کی ایسی سرگرمیوں سے عالمی برداری کو انسداد وبا میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 

پاکستانی ماہر نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے وائرس کے ماخذ کی تلاش کے لیے حال ہی میں پیش کردہ دوسرے مرحلے کا منصوبہ نامناسب اور غیر منطقی ہے ۔ اس میں سیاسی مقاصد واضح طور پر ظاہر ہوئے ہیں۔ اس معاملے پر چین کا انکار مناسب طرز عمل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چین نے وائرس کے ماخذ کی تلاش کے پہلے مرحلے میں عالمی ادارہ صحت کے ساتھ مکمل تعاون کیا ہے اور مستند نتائج بھی حاصل ہوئے ہیں ۔لہذا اب دوسرے مرحلے میں انہی اقدامات کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔وائرس کے ماخذ کی تلاش کے دوسرے مرحلے کو پہلے مرحلے میں حاصل شدہ شواہد کی بنیاد پر ترتیب دینا چاہیئے ۔ لہذا  دوسرے مرحلے کی تحقیق امریکہ سمیت دوسرے ممالک میں کی جانی چاہیئے ،جس سے حقیقت سامنے آ جائے گی ۔ آصف نور نے کہا کہ یہ چین کا حق ہے کہ وہ امریکہ سمیت دیگر ممالک کی مشکوک سرگرمیوں پر اعتراضات اٹھا سکتا ہے ۔ اس وقت کروڑوں چینی شہریوں نے عالمی ادارہ صحت سے اپیل کی ہے کہ امریکہ کی فورٹ ڈیٹریک بائیو لیب کو بھی تحقیق کے دائرے میں لایا جائے۔ 

SHARE

LEAVE A REPLY