وائرس کے ماخذ کا سراغ لگانے کےدوسرے مرحلےکے منصوبے کے حوالے سے ڈبلیو ایچ او کی تجویز پرغور کیا جا رہا ہے۔وزارت خارجہ

0

۱۶ جولائی کو چینی وزارت خارجہ کی پریس کانفرنس کے دوران سوال کیا گیا کہ عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے چین سے کہا ہے کہ وہ  وائرس کے ماخذ کا سراغ لگانے کے دوسرے مرحلے میں تعاون کرے ،کیا چین اس تحقیقاتی عمل میں ڈبلیو ایچ او کےساتھ تعاون کرےگا اور متعلقہ اہلکاروں کو چین میں داخلے کی اجازت دےگا؟  وزارت خارجہ کے ترجمان چاؤ  لی جیان نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چین نے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اور ڈبلیو ایچ او سیکریٹریٹ کے مجوزہ دوسرے مرحلے کےمسودے کا نوٹس لیا ہےاور  چینی ماہرین اس مسودے پر غور  کر رہے ہیں۔
ترجمان نے کہا  کہ عالمی سطح پر وائرس کے ماخذ کا سراغ لگانے  کے معاملے پر چین کا مؤقف مستقل اور واضح ہے۔ یہ ایک سائنسی مسئلہ ہے، تمام فریقوں کو سائنس دانوں کی رائے اور سائنسی نتائج کا احترام کرنا چاہیے اور اس معاملے پر سیاست  کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ اس سال مارچ میں ، عالمی ادارہ صحت نے پہلے مرحلے کے بارے میں ،چین-ڈبلیو ایچ او  کی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ جاری کی جس کے نتائج یہ ہیں کہ لیبارٹری سے وائرس کا اخراج ناممکن ہے اور دنیابھر  میں وسیع  پیمانے پر ممکنہ ابتدائی کیسز کی تلاش جاری رکھی جانی چاہیے۔ یہ ایک سائنسی اور مستند رپورٹ ہے نیز یہ عالمی سطح پر وائرس کا سراغ لگانے  کے اگلے مرحلے کی بنیاد بھی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY