ہانگ کانگ میں قومی سلامتی قانون کے نفاذ سے “ایک ملک دو نظام” کو یقینی بنایا جائے گا، سی پی پی سی سی کے نائب سربراہ

0

ہانگ کانگ میں قومی سلامتی قانون کے نفاذ کو ایک برس ہو چکا ہے۔اس حوالے سے سولہ تاریخ کو “جائزہ اور توقع” کے عنوان سے ایک سیمینار بیجنگ میں منعقد ہوا۔ چین کی  قومی سیاسی مشاورتی کانفرنس کے نائب سربراہ اور ریاستی کونسل کے ہانگ کانگ اور مکاؤ امور کے دفتر کے  ڈائریکٹر شیا باو  لوونگ نے افتتاحی تقریب سے خطاب کیا۔

شیا باو لوںگ نے کہا کہ ہانگ کانگ میں رونما ہونے والی تبدیلی ، ہانگ کانگ کے قومی سلامتی قانون کے مضبوط اثرات کی عکاس ہے۔حقائق ثابت کرتے ہیں کہ قومی سلامتی قانون ہانگ کانگ میں استحکام اور سکیورٹی کا تحفظ کرسکتا ہے۔اس قانون کے نفاذ کے بعد نہ صرف قومی سلامتی کو یقینی بنایا گیا ہے بلکہ ہانگ کانگ میں عام شہریوں کی سیکیورٹی کا بھی تحفظ کیا گیا ہے۔ ہانگ کانگ میں قومی سلامتی قانون کے نفاذ کے ایک سال بعد بینکنگ سسٹم میں محفوظ سرمایے کے مجموعی حجم میں پانچ اعشاریہ چھ فیصد  کا اضافہ ہوا اور مجموعی مالیت 149 کھرب ہانگ کانگ ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ہانگ کانگ کی  ایک مالیاتی مرکز کی ساکھ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ایک سروے میں شامل شہریوں کی 71.9%نے ایک ملک دو نظام پر اعتماد کا اظہار کیاہے۔حقائق ثابت کرتے ہیں کہ “ایک ملک” کی پختہ بنیاد  پر ہی “دو نظام “کا فائدہ نظر آئے گا ، ہانگ کانگ کے شہریوں کی خوشحالی اور مفادات کا تحفظ کیا جاسکے گا اور ہانگ کانگ میں طویل المدتی استحکام اور ترقی برقرار رہ سکے گی۔ 

SHARE

LEAVE A REPLY