افغانستان میں بیس سالہ خانہ جنگی کا حاصل کیا ہے ؟

0

سال دو ہزار  اکیس  میں “سانحہ نائن الیون ” کی بیسویں برسی منائی جائے گی اور افغانستان میں  امریکہ کی شروع کردہ جنگ کا بھی یہ بیسواں سال ہے۔افغانستان میں بیس سالہ خانہ جنگی کا حاصل کیا ہے؟

“نائن الیون” کے فوراً بعد امریکہ نے افغانستان میں جنگ شروع کردی تھی، طالبان انتظامیہ کو ہٹا دیا گیااور القاعدہ  کا خاتمہ کیا گیا۔ اس کے بعد بیس سالوں تک امریکہ افغانستان میں انسداد دہشت گردی کی جنگ جاری رکھتا ہے ، جنگ کے بعد بحالی کو آگے بڑھاتا ہے اور نام نہاد ” جمہوری اصلاحات ” پر عمل درآمد کرتا ہے۔ افغانستان میں امریکہ کی شروع کردہ جنگ کا ایک ہدف یہ ہے کہ افغانستان میں دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا ۔ظاہر ہے اس ہدف کو پورا نہیں کیا گیاہے۔بیس سالوں میں تصادم اور تنازعات کی وجہ سے افغانستان میں بے شمارانسانی المیوں نے جنم لیا۔ سال دو ہزار انیس تک افغانستان میں چالیس ہزار سے زائد عام شہری جاں بحق ہوئے ، ساٹھ ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے اور  تقریباًایک کروڑ دس لاکھ افراد مہاجر بن چکے ہیں۔افغانستان کا شمار دنیا کے سب سے کم ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔ بیس سالہ خانہ جنگی نے افغانستان کو ایک منقسم ،شورش زدہ اور  غریب ملک میں بدل دیا ہے۔ امریکہ کو اپنی غلط پالیسی پر غور کرنا چاہیے۔ 

SHARE

LEAVE A REPLY