نوول کورونا وائرس لیب سے نہیں جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے، محققین میں علمی بحث

0

امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے بیس سے زائد ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ نوول کورونا وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے اور اس وائرس کے لیبارٹری سے خارج ہونے اور انسانوں میں منتقل ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہ علمی بحث وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کئے گئے اس حکم نامے کا نتیجہ ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وائرس کے لیبارٹری کے اخراج کے حوالے سے 40 روز میں تحقیقات مکمل کی جائیں۔ اس تحقیقی رپورٹ پر دستخط کرنے امریکی ٹولین میڈیکل سکول کے معروف ایمیونالوجسٹ اور پروفیسرآف مائیکرو بیالوجی رابرٹ گیری نے کہا کہ محض افسانوی کہانیوں کی بنیاد پر ووہان وائرلوجی لیب کو نوول کورونا وائرس کا ماخذ قرار نہیں دیا جاسکتا، اس کے لئے ٹھوس سائنسی شواہد کی ضرورت ہے جو موجود نہیں ہیں۔ ہم مضبوط دلیل کے ساتھ یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ نوول کورونا وائرس لیبارٹری سے لیک نہیں ہوا۔ اس تحقیقی رپورٹ پر دستخط کرنے والے دیگر عالمی محقیقین کا بھی یہی ماننا ہے کہ نوول کورونا وائرس کے جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

اس سے قبل ووہان وائرولوجی لیب کا دورہ کرنے والی عالمی ماہر ٹیم نے بھی یہ کہا تھا کہ وائرس ووہان وائرلوجی لیب سے لیک نہیں ہوا بلکہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے۔ جبکہ امریکی صدر جوبائیڈن نے کچھ عرصہ قبل کمزور اور غیر مصدقہ انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر وائرس کے ماخذ کی از سر نو تحقیقات کا حکم جاری کیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY