چینی کمیونسٹ پارٹی نے انسانی حقوق کی ترقی کا کرشمہ کیسے ممکن بنایا؟

0

چوبیس جون کو چین کی ریاستی کونسل کے دفتر اطلاعات نے”انسانی حقوق کے احترام اور تحفظ میں چینی کمیونسٹ پارٹی کی عظیم کامیابیوں” کے حوالے سے ایک وائٹ پیپر جاری کیا۔ اس وائٹ پیپر کے ذریعے ، بیرونی دنیا نا صرف گزشتہ 100 سالوں میں چین کے انسانی حقوق کے نصب العین کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے سی پی سی  کی ثابت قدمی اور کوششوں کو دیکھ سکتی ہے ، بلکہ اس بات کو بھی واضح طور پر سمجھ سکتی ہے کہ چین کی حکمران جماعت ، چین میں انسانی حقوق کی مسلسل پیشرفت کی بنیادی ضمانت ہے۔”انسانی حقوق کا احترام اور تحفظ ناصرف چینی کمیونسٹ پارٹی کے منشور میں شامل ہے بلکہ ملکی آئین میں بھی درج ہے اور یہ حکمرانی کا ایک اہم اصول ہے۔ چین کی مختلف مرحلوں میں ترقی کی منصوبہ بندی میں انسانی حقوق کے نصب العین کی ترقی کا فروغ ، قومی سماجی و اقتصادی ترقی کا ایک اہم ہدف ہے جس کے حصول کی  کوششیں کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہیں ۔
چین میں “انسانی حقوق” کسی بھی طرح سے ایک تجریدی سیاسی اصطلاح نہیں ہے ، بلکہ ایک حقیقی عمل  ہے جسے ہر چینی ذاتی طور پر محسوس کرسکتا ہے۔
غربت کے خاتمے کی مثال سب کے سامنے ہے کہ  دو ہزار بارہ سے دو ہزار بیس تک چین میں نو کروڑ نواسی لاکھ نوے ہزار دیہی آبادی کو غربت سے نجات دلائی گئی۔ جس سے دنیا میں انسانی حقوق کے تحفظ کی ایک نایاب مثال  قائم ہوئی ہے۔ مقرر کردہ مدت سے ۱۰ سال قبل ہی پائیدار ترقی کے لیے اقوام متحدہ کے ۲۰۳۰ کے ایجنڈے میں شامل  غربت میں کمی کے ہدف کو  پورا کیا گیا ہے۔ 
سو سالوں میں چینی کمیونسٹ پارٹی نے قومی صورتحال کے مطابق انسانی حقوق کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے  کہ انسانی حقوق کا احترام، تحفظ اور ترقی کے لیے ہر ملک کو اپنی داخلی صورتحال کے مطابق اپنی راہ کا انتخاب کرنا چاہیے۔

SHARE

LEAVE A REPLY