آزادی صحافت کے نام پر ہانگ کانگ میں انتشار پیدا کرنے کی کوششیں چھپ نہیں سکتیں

0

ہانگ کانگ کے “ایپل ڈیلی” اخبار اور  “ایپل نیوز ویب سائٹ” کی معطلی کے اعلان کے بعد امریکہ اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے چند سیاستدان چین کو آزادی صحافت کے طعنے دے رہے ہیں۔ ان کی یہ بیان بازی انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ “ایپل ڈیلی” شمارے کی بندش کا آزادی صحافت سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق ہانگ کانگ کے قومی سلامتی کے قانون کی خلاف ورزی سے  ہے۔ “آزادی صحافت” کی آڑ میں امریکہ اور مغرب کے کچھ لوگوں نے ہانگ کانگ  اور چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ہے۔ جو  بین الاقوامی قوانین اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ ہانگ کانگ کے عوام  اس پر سخت برہم ہیں اور اس طرز عمل کی شدید مذمت کرتے ہیں!

ہانگ کانگ کا بنیادی قانون اور ہانگ کانگ کا قومی سلامتی کا قانون ہانگ کانگ کے باشندوں کو ان حقوق اور آزادیوں کا واضح طور پر تحفظ دیتا ہے جن میں قانون کے مطابق آزادی رائے اور آزدی صحافت بھی شامل ہے لہذا غیر متعلقہ لوگوں کو اس حوالے سے انگلیاں اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ 

SHARE

LEAVE A REPLY