چینی ویکسین، کووڈ-۱۹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ایشیائی ممالک کے لیے مددگار

0

کورونا وائرس کا وبائی مرض پوری دنیا میں لاتعداد اموات کا باعث بن رہا ہے، اس لیے  تمام ممالک میں اس وائرس سے بچاو کے لیے ویکسین کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے ۔ ایسی صورتِ حال میں ایشیا کے ترقی پذیر ممالک کو چینی کمپنیوں کا تعاون حاصل ہوا اور۲۰۲۱  کی پہلی ششماہی کے دوران یہ ممالک  ویکسین تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔

 انڈونیشیا کو اب تک ویکسین کی۹۵  ملین خوراکیں موصول ہوچکی ہیں ، اوراس میں سے ۸۹ فی صد  چینی کمپنی سائینوویک بایوٹیک کی تیار کردہ ہیں ۔ کمبوڈیا نے ۲ چینی ویکسینز استعمال کیں اور اپنے خطے میں ویکسی نیشن کی سب سے زیادہ شرح کمبوڈیا ہی کی ہے  ۔اس کی ۱۸ فیصد آبادی کو ویکسین کی کم از کم ایک خوراک مل چکی  ہے۔رواں ماہ فلپائن کے لیے چین سے 5 ملین سے زیادہ خوراکیں متوقع ہیں ۔

نیپال کوچینی کمپنی سائنوفارم کی تیار کردہ ویکسین کی ایک اعشاریہ  آٹھ ملین خوراکیں موصول ہوئیں۔ جس سے  ۶۰ سال سے زائد عمر کے لوگوں کی ویکسی نیشن ہو گی۔ سری لنکا کو چینی حکومت کی طرف سے عطیہ کردہ سائینو فارم ویکسین کی ۲ کھیپیں موصول ہوئی  ہیں اور سری لنکا  اس کمپنی سے مزید ویکسینز  خرید رہا ہے۔

 بنگلہ دیش کو چین کی طرف سے عطیہ کی جانے والی ویکسین کی ۲ کھیپیں موصول ہوئی ہیں جن کی مدد سے  ملک میں ویکسی نیشن کی مہم کو دوبارہ شروع کرنے میں مدد ملی ہے ۔ اب بنگالی حکومت سائنو فارم کمپنی سے ویکسین کی ۱۵ ملین خوراکیں خریدنے کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔اس کے برعکس ، فائزر، بائیو ٹیک اور موڈرنا جیسی مغربی کمپنیوں کی  تیار کردہ ویکسینز میں سے بہت مختصر تعداد میں ویکسین سوائے سنگاپور جیسے دولت مند ملک کے ، باقی ایشیائی ممالک میں پہنچی ہے۔

 انڈونیشیا میں سنٹر برائے اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے سینئر محقق ، ایون لکسمانہ نے وال اسٹریٹ جرنل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ   “اس خطے کے باشندے ہمیشہ یاد رکھیں گے کہ “چین نے کس طرح جلدی سے لاک ڈاون کیا ، اپنے معاملات کو قابو میں کیا اوردوسروں کو  ویکسین فراہم کی۔”

SHARE

LEAVE A REPLY