امریکہ ،کینیڈا اور برطانیہ سمیت چند ممالک میں انسانی حقوق کے حوالے سے بے شمار جرائم ہوئے ہیں ، چینی وزارت خارجہ

0

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان چاولی جیان نے اٹھارہ جون کو منعقدہ  پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکہ ،کینیڈا اور برطانیہ سمیت چند ممالک میں انسانی حقوق کے حوالے سےبے شمارجرائم ہوئے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان ممالک نے نوآبادیات اور جنگوں کے ذریعےبےگناہ جانوں کا قتل عام کیا ۔ 

اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا 47 واں اجلاس اکیس  جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد  ہوگا۔  اس اجلاس میں امریکہ ، کینیڈا ، اور برطانیہ سمیت چند ممالک کانفرنس کے دوران سنکیانگ امور پر مشترکہ تقریر  کریں گے تاکہ انسانی حقوق کے حوالے سے چین کی ساکھ خراب ہو۔ اس معاملے سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے چاو لی جیان نے کہا کہ امریکہ ، کینیڈا اور برطانیہ جیسے کچھ ممالک نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے پلیٹ فارم کو مسلسل غلط استعمال کیا ، جعلی معلومات اور من گھڑت کہانیاں پھیلاتے ہوئے  انسانی حقوق کی آڑ میں چین کو بد نام  کیا۔یہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی مکالمے اور تعاون  کے لیے ایک مداخلت اور تباہی ہے ، اور یہ عالمی  انسانی حقوق  کی ترقی کی پامالی اور بے حرمتی بھی ہے۔چاو لی جیان نے کہا کہ چینی کمیونسٹ پارٹی اور چینی حکومت ہمیشہ انسانی حقوق کے  “عوام کے مرکز” پر مبنی تصورکی پیروی کرتی رہی ہے اور  بقا اور ترقی کے حقوق کو  ہمیشہ اولین اور بنیادی انسانی حقوق  مانتی ہے۔ سنکیانگ کی پالیسی کو  چینی عوام کی حمایت حاصل ہےاور سنکیانگ سمیت چین کے تحفظِ انسانی حقوق  کے شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہو ئی ہیں ۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی بھی  انکار نہیں کرسکتا ۔   اس کے برعکس چین کو بدنام کرنے والے ان چند ممالک میں انسانی حقوق کے مختلف معاملات مثلاً نسل پرستی ، بندوق کے ذریعے تشدد ، جبری مشقت اور بچوں کی مزدوری وغیرہ ، یکے بعد دیگرے سامنے آتے رہے  ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY