سنکیانگ میں کپاس کی پیداوار کے لیے کسی قسم کی “جبری مشقت”کا کوئی وجود نہیں ہے ، تحقیقاتی رپورٹ

0

پندرہ جون  کو چین کی ساؤتھ ویسٹ یونیورسٹی آف پولیٹکل سائنس اینڈ لا کے ہیومن رائٹس انسٹی ٹیوٹ  نے سنکیانگ میں کپاس کی پیداوار سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ جاری کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ موجودہ دور میں سنکیانگ میں کپاس کی پیداوار کے لیے مشینوں کا استعمال بہت عام ہو چکا ہے۔
محققین نے رواں سال مارچ سے آکسو،کاشغر اور حہ تھِیاں سمیت دیگر ایسے علاقوں میں تحقیقات کیں جہاں کپاس کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے۔ جو نتائج سامنے آئے ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سنکیانگ کے بیشتر علاقے، کپاس کی کاشت، اس کی چنائی اور پروسیسنگ کے دوران مشینوں سے کام لینے کے حوالے سے چین میں سرِ فہرست ہیں ۔ تحقیقات سے ظاہر ہے کہ کپاس کی مشینی چنائی کے بعد  بہت چھوٹے چھوٹے قطعات پر کام کے لیےافرادی قوت کی ضرورت پڑتی ہے اور چونکہ کپاس چننے کے اس کام کی اجرت جنوبی سنکیانگ  میں عمومی طور پر ملنے والی ماہانہ تنخواہ سے دو ، تین گنا زیادہ ہے ،اس لیے زیادہ تر لوگ چنائی کے موسم میں اس کام کو کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں ۔اس سلسلے میں کسی قسم کی جبری مشقت کا کوئی جواز یا تصور نہیں ہے۔ 
 

SHARE

LEAVE A REPLY