دنیا کو ویکسین کی امداد کے سلسلے میں امریکہ کےحقیقی عمل کی ضرورت ہے

0

عالمی ادارہ صحت  کے سیکرٹری جنرل ٹیڈروس ایدہانوم گیبریسس نے سات تاریخ کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ تاحال امیر ممالک  کو  دنیا کے کل  کووڈ -۱۹ ویکسین  کی تقریبا 44 فیصد خوراکیں ملی ہیں، جبکہ کم آمدنی والے ممالک کو  صرف 0.4 فیصد ویکسین ملی ہے۔ گزشتہ ایک عرصے سے کچھ مغربی ممالک نے ویکسین کی تیاری اور تقسیم کے حوالے سے  شور تو زیادہ مچایاہے لیکن عمل بہت کم کیا  ہے ۔ مثال کے طور  پر  ویکسینیشن کی شروعات میں امریکہ نے اپنی ضرورت سے کہیں زیادہ ویکسین ذخیرہ  کیا ، اور بعد میں چین کی جغرافیائی سیاست کی مخالفت کے لیے  نام نہاد ” ویکسین کی امداد کا منصوبہ ” پیش کیا ۔لیکن آج تک امریکہ کی جانب سے ویکسین کی ایک خوراک بھی مدد کے طور پرکسی دوسرے ملک  کو نہیں پہنچی ۔ ویکسین امداد بین الاقوامی اخلاقیات کا تقاضا ہے ، سیاسی ہتھیار نہیں ۔ ایک طرف امریکہ  ویکسین کی امداد کو  بنیاد بناکر سیاسی جوڑ توڑ کرہاہے تو دوسری جانب چین ویکسین کی امداد اور تقسیم کے حقیقی عمل میں مصروف ہے ۔ اب تک چین نے اسی سے زائد ترقی پزیر ممالک کو ویکسین کی امداددی ہےاور چالیس سے زائد ممالک کو برآمد کیا ۔ چین کی دنیا کو فراہم کردہ ویکسین کی خوراکوں کی تعداد پینتیس کروڑ سے تجاوز کر چکی  ہے ۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ ویکسین کی امداد کے حوالے سے کیا امریکہ بھی چین کی طرح  حقیقی عمل کرےگا ؟  دنیا امریکہ کے سیاسی تماشے  کے بجائے حقیقی  عمل کی  منتظر  ہے۔ 

SHARE

LEAVE A REPLY