نام نہاد ویغور خصوصی عدالت میں صرف تماشا ہے، کوئی حقیقت نہیں۔ وزارت خارجہ

0

اطلاعات کے مطابق نام نہاد “ویغور خصوصی عدالت” نے حال ہی میں سنکیانگ میں چینی حکومت پر انسانی حقوق کی پامالیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے لندن میں “سماعت” کی تھی۔ اس کے جواب میں وزارت خارجہ کے ترجمان چاؤ لی جیان نے 8 تاریخ کو ایک باقاعدہ پریس کانفرنس میں اس طرف اشارہ کیا کہ نام نہاد “ویغور خصوصی عدالت” کا قانون سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ خالصتاً چین مخالف سازش ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ نام نہاد “عدالت” دراصل برطانیہ میں رجسٹرڈ ایک نجی کمپنی ہے، لہذا ان نام نہاد “گواہوں” کو جھوٹی گواہی کی قانونی ذمہ داری اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ چاؤ لی جیان نے کہا کہ چین مخالف قوتوں کی طرف سے خواہ کیسا ہی دھوکہ خیز تماشا کیوں نہ ہو، چین کی ترقی  جاری رہےگی، اور  سنکیانگ کے امور کے حوالےسے بین الاقوامی برادری کی زیادہ سے زیادہ منصفانہ  آوازیں آتی رہیں گی۔ نام نہاد “عدالت”جیسی  “پرفارمنس”  بالاآخر ایک بیکار اور ناکام کوشش ثابت ہوگی۔

SHARE

LEAVE A REPLY