بیڈ گائے اور ہالی وڈ کی امریکی منطق

0
بیڈ گائے اور ہالی وڈ کی امریکی منطق_fororder_1

مجھے ہالی وڈ کے بلاک بسٹرز خاص طور پر  جنگی ، ایکشن فلمیں اور سازشی پلاٹ والی فلمیں دیکھنا پسند ہے۔میرے پسندیدہ فلمی اسٹار میٹ ڈیمن ہیں ، “دی بورن  آئڈینٹٹی” میری پسندیدہ فلم سیریز ہے۔ میں نے ہالی وڈ کی بے شمار  جنگی فلمیں  دیکھی ہیں ، اور میں نے  آہستہ آہستہ ان فلموں میں دنیا بھر میں چھڑنے والی جنگوں میں امریکی کردار کی گہری عکاسی کے پیچھے کچھ منطق  محسوس کی ہے۔

میں جس پہلی فلم کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں ، “گرین زون” ،عراق جنگ کے بارے میں  بلاک بسٹر ہے جس میں میٹ ڈیمن نے  اداکاری کی  ہے۔ اس فلم میں امریکی فوج کے افسر رائے ملر اور ان کی تفتیشی ٹیم امریکی خفیہ ادارے کی انٹلیجنس کی بنیاد پر عراق میں ایسے اسلحہ خانوں کی تلاش میں بھیجی گئی  جہاں ممکنہ ڈبلیو ایم ڈی یعنی بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار محفوظ ہو سکتے ہیں۔ڈبلیو  ایم ڈی ہی عراق  جنگ چھڑنے کا امریکی بہانہ ہے۔ لیکن انھوں نے ساری انٹلیجنس کو غلط  پایا۔ ایک بریفنگ میٹنگ کے دوران ملر نے انٹیلی جنس ذرائع کی  درستی پر سوال اٹھایا لیکن اس کی سرزنش کی گئی۔ کچھ نئے موڑ اور تحقیقات  کے بعد ، رائے ملر کو معلوم ہوا کہ نام نہاد ڈبلیو ایم ڈی کو تو بہت پہلے ہی تباہ کردیا گیا تھا ، اور امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے محض اپنے ذاتی عزائم کی تسکین کے لئے تحقیقاتی رپورٹ میں  جعل سازی کی اور افواہوں کو پھیلانے کے لئے ایک رپورٹر کو دھوکہ دیا۔جعلی تحقیقی رپورٹ کو مستند شمار کرتے ہوئےامریکی حکومت نے  عراق میں جنگ  شروع کی۔ اس ڈرامے کے اختتام پر مذکورہ بالا امریکی عہدیدار کی تشکیل کردہ عراقی سیاسی مذاکراتی کانفرنس شدید اختلاف رائے کا شکار ہوئی  ۔عراق میں قومی مفاہمت کی منزل کوسوں دور رہ گئی  ، اور عراق بدستور انتشار کا شکار رہا۔ رائے ملر نے حقیقت کو کھول کر رکھ دیا  اور حکومتی سازش کو بے نقاب کرنے کے لئے بڑے میڈیا اداروں کو دستاویز بھیجی تاکہ امریکی عوام کو بیدار  کیا جا سکے۔

میرا تبصرہ: اقوام متحدہ کی رضا مندی کے بغیر  کسی  ملک کو جنگ کے ذریعے توڑا گیا  ہے جس کا بہانہ  ڈبلیو ایم ڈی ہے  جو محص ایک افسانہ ثابت ہوا۔اس فلم سے ہمیں  پتہ چلا ہے  کہ ایک برے آدمی نے انٹیلی جنس ایجنسی سے جھوٹ بولا ، امریکی حکومت سے جھوٹ بولا ، امریکی صدر کے سامنے جھوٹ بولا،اور پوری   دنیا سے جھوٹ بولا اور  دھوکا دیا  جس کی وجہ سے یہ بھیانک جنگ شروع کی گئی ہے ، اور پھر  ، حسب معمول  امریکی ہیرو نے ہی سازش کا انکشاف کیا ، برے آدمی کو انصاف کے کٹہرے میں لایا گیا  ، اور امریکہ ابھی بھی عظیم اور بے قصور ہے۔

ایکشن کی ریٹنگ: ۲ اسٹار

مضحکہ خیز اسٹوری  ریٹنگ: ۳ اسٹار

دوسری فلم جس کا میں ذکر کر رہا ہوں وہ  “دی کل ٹیم”ہے۔ امریکی  نوجوان سپاہی ایڈم  نے افغانستان میں امریکی عسکری سرگرمی  کے دوران اپنے ساتھی فوجی اہلکاروں کے ہاتھوں بے گناہ شہریوں کا قتل عام دیکھا اور اپنے افسران کو ان واقعات کی اطلاع دینے پر غور کیا۔ اسی دوران اس  مسلح اور متشدد امریکی اسکواڈ کو شبہ ہونے لگا کہ اس کی ٹیم کا کوئی  رکن اُن کے ساتھ غداری کر رہا ہے۔ اسکواڈ کمانڈر نے ایڈم کو بے گناہ شہریوں کی جان لینے پر مجبور کیا ، کمانڈر نےاسے فوج کے نگران محکمے کو  اسکواڈ کی پر تشدد  کارروائیوں سے مطلع کرنے سے روکا اور  اسے جان سے مارنے کی دھمکی دی ۔ بلا آخر ایڈم نے اپنی فوج کے مظالم کی اطلاع دی ، اور  متعلقہ افسران اور سپاہی قصوروار پائے گئے۔

میرا تبصرہ: بالکل دوسری امریکی جنگوں کی طرح ، افغانستان کی جنگ بھی  وسیع پیمانے پر انسانی تباہی اور لاتعداد شہری ہلاکتوں کا باعث بنی ہے۔ یہ فلم ہمیں بتاتی ہے کہ اس جنگ  میں معصوم لوگوں کی ہلاکت اور دردناک المیے  کی اصل وجہ چند افراد کی بری فطرت ہے۔ امریکی انصاف  بلا آخر نیکی کو فروغ دے گا اور برائی کو سزا دے گا ، اور امریکہ  حسب معمول ،بے گناہ اور عظیم رہتا ہے۔

ایکشن کی ریٹنگ: ۱ اسٹار

مضحکہ خیز اسٹوری  ریٹنگ: ۵ اسٹار

بیڈ گائے اور ہالی وڈ کی امریکی منطق_fororder_2

تیسری فلم جس سے میں آپ کو متعارف کروا رہا ہوں وہ ہے “امریکن اسنائپر”  جو ایک حقیقی زندگی کی کہانی پر مبنی ہے۔ کرس کِیل امریکی بحریہ کے سیل کمانڈو دستے کے اسنائپر  ہیں۔وہ جنگی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لئے چار مرتبہ عراق گئے ۔اس دوران انہوں نے 160 مخالفین کو گولی مار کر ہلاک کیا ،اس لئے انہیں  سب سے  “جان لیوا امریکن اسنائپر” قرار دیا گیا۔ جب وہ امریکی فوج کے “لیجنڈ” بن گئے ، تو اخلاقیات اور ضمیر کے ہاتھوں مجبور ہو کر شدید دکھ اور افسوس میں مبتلاہونے لگے۔امریکہ واپس آنے کے بعد ، وہ جنگ سے پیدا ہونے والے خوف اور تکلیف کو فراموش نہیں کرسکتے تھے ، انہیں خاوند اور والد کی ذمہ داریاں  نبھانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ خود کو سماج میں  ضم نہیں کر پا رہے تھے۔ 2013 میں ایک دن جب وہ   نفسیاتی علاج کی غرض سے عراق جنگ کے سابق فوجیوں سے بات چیت کر رہے تھےتو  ایک سابق فوجی نے انہیں گولی مار کر  ہلاک کردیا ۔ اس قومی ہیرو کی موت پر ملک بھر کے   عوام نے   گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ۔

میرا تبصرہ:ایسی امریکی فلموں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ امریکی فوجیوں نے قتل وغارت گری اس لئے شروع کی کہ انہوں نےاپنی آنکھوں سے  ساتھیوں کو جنگ میں ہلاک ہوتے دیکھا ہے ، لہذا وہ امریکی شہریوں کے تحفظ ، خود اپنے دفاع، اپنے قریبی لوگوں اور بہترین دوستوں کی حفاظت کے لئے انتقامی جنگ لڑنے لگے ہیں۔ اس طرح کے انتقامی موضوعات لوگوں کو پرجوش بناتے ہیں ، یہاں تک کہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ امریکی فوجی کیوں دوسرے ممالک کی سرزمین پر مارے گئے  اور کیوں امریکی فوج بیرونی ممالک میں معصوم لوگوں کو ہلاک کرتے ہیں۔

 ایکشن کی ریٹنگ:۴اسٹار

مضحکہ خیز اسٹوری  ریٹنگ: ۵ اسٹار

ہالی وڈ کے ان بلاک بسٹرز پر تبصرے کے بعد ، ان کی اسکرین رائٹنگ منطق کے مطابق ، میں چوتھے ہالی وڈ بلاک بسٹر  کامنتظر ہوں جس کا نام ہوگا  “امریکن لیبز” اور  مجھے امید ہے کہ اس فلم   میں بھی میٹ ڈیمن اداکاری کے جوہر دکھائیں گے  ۔اس فلم کی اسٹوری کچھ اس طرح ہوگی کہ  بطور امریکی سیاح میٹ ڈیمن نے غیر ملکی سفر کے دوران حادثاتی طور پر کچھ پراسرار امریکی حیاتیاتی لیبارٹریوں اور ان لیبارٹریوں سے وابستہ عجیب و غریب واقعات کا انکشاف کیا۔آخر میں ان کی گرل فرینڈ ، ایک ماہر حیاتیات کی مدد سے ، میٹ ڈیمن امریکی لیبارٹریوں میں گھس جاتے ہیں اور پردے کے پیچھے حقائق کو بے بقاب کرتے ہیں ۔ پتہ چلتا ہے کہ یہ لیبارٹریاں شیطانی  ایلینز کے زیر کنٹرول ہیں  جن میں   ایسے وائرس پر کام کیا جا رہا ہے جو انسانوں کو ختم کرسکتے  ہیں ۔ امریکی وزیر خارجہ جو ان تجربہ گاہوں کے انتظام کو کنٹرول کرتے ہیں، وہ بھی ایک ایلین ہیں۔ آخر میں ، میٹ ڈیمن نے امریکہ کے صدر کو راضی کیا اور وہ امریکی افواج کی رہنمائی کر کے  ان تجربہ گاہوں کو تباہ  کرتے ہیں  اور انسانیت کو بچا لیتے ہیں۔

اس طرح کے سازشی بلاک بسٹرز  ہالی وڈ کے امریکی اسکرین رائٹرز کی خصوصی مہارت ہے  ، لیکن ان دنوں امریکی حکومت کی جانب سے ایک بڑا اقدام مجھے یہ احساس دلاتا ہے کہ یہ ہالی وڈ کے تخیل سے بالاتر ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے حال ہی میں چین کو براہ راست نشانہ بناتے ہوئے اپنی  انٹلیجنس ایجنسیوں کو  نوول کورونا وائرس کی تحقیقی رپورٹ 90 دن کے اندر پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ظاہر ہے کہ وائرس کے ماخذ کا سراغ لگانا بنیادی طور پر  سائنسدانوں کا کام ہے ۔اب امریکی حکومت نے  سازشی ماہرین یعنی  محکمہ انٹلیجنس کو اس کام کو  مکمل کرنے کا حکم دیا ہے جس کا بدنیت مقصد  ایک مرتبہ پھر “گرین زون” میں ڈبلیو ایم ڈی کی اسٹوری کی  یاد دلاتا ہے۔مختلف بات یہ ہے کہ اس مرتبہ ڈبلیو ایچ او کی متعلقہ تحقیقی رپورٹ جاری ہو چکی ہے ، لیکن یہ امریکہ کی خواہش  کے مطابق نہیں ہے۔اس لئے امریکہ کا کہنا ہے کہ  تفتیش جاری رکھنی چاہئے۔ اس مرتبہ برا آدمی کون ہے؟ چینی حکومت ؟ یا پھر امریکی سی آئی اے میں کوئی اور برا آدمی ہے جو  اپنی ذاتی عزائم کے لئے عراقی جنگ کی طرز پر ایک اور صلیبی جنگ شروع کروانا چاہتا ہے؟ یا یہ بھی ایلینز کی ایک اور سازش  ہے؟ میں اس بارے میں مزید سوچ بھی نہیں سکتا۔حقیقت ہمیشہ فلم سے زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے ۔اس اسکرپٹ کو کیسے لکھا جائے ،یہ ہالی وڈ کی سوچ سے بالاتر ہے اور میرے تخیل سے بھی باہر ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY