جاپان کو دنیا کو دھوکا نہیں دینا چاہیئے

0

چین میں جاپانی سفارتخانے نے حال ہی میں اپنی ویب سائٹ پر فوکوشیما جوہری بجلی گھر سے ایٹمی آلودگی کے معاملے پر  دعویٰ کیا ہے کہ سمندر میں خارج ہونے والا پانی “ایٹمی آلودہ پانی ” نہیں بلکہ”ALPS  کے ذریعے علاج شدہ پانی” ہے جو بین الاقوامی روایتی اصولوں  کے عین مطابق ہے کیونکہ چین سمیت دنیا کے  مختلف ممالک  عمومی طور  پر “ایٹمی بجلی گھروں سے تابکاری کے فضلہ کو سمندر میں خارج کرتے ہیں۔”
لیکن اصل بات یہ ہےکہ بڑی تعداد میں ماہرین کہتے ہیں کہ فوکوشیما جوہری حادثے سے پیدا ہونے والا جوہری آلودہ پانی فطری طور پر کسی جوہری حادثے کے بغیر ایٹمی بجلی گھر کے عام آپریشن سے پیدا ہونے والے ٹھنڈے پانی سے بالکل مختلف ہے، کیونکہ  فوکوشیما جوہری بجلی گھر سے ایٹمی آلودہ پانی میں انتہائی پیچیدہ مرکبات کے ساتھ مختلف اقسام کے ریڈیونکلائڈز شامل ہیں۔دراصل جاپان  ان دونوں اقسام کو الجھا نے کی کوشش کررہاہے جو ایک شرمناک عمل ہے۔
جاپان کے متعدد سیاستدانوں نے بارہا دعوی کیا  ہے کہ ایٹمی آلودہ پانی اتنا محفوظ ہے کہ اسے براہ راست  پیا بھی جاسکتا ہے ۔ اگر یہ   اتنا محفوظ ہے تو  جاپان اپنے ملک میں  اس کو استعمال  میں کیوں نہیں لاتا۔  دراصل سمندر میں ایٹمی آلودہ پانی کے اخراج کا  جاپانی عمل  سمندر  ، کرہ ارض اور بنی نوع انسان کے خلاف ایک بہت بڑا جرم ہے۔
 

SHARE

LEAVE A REPLY