امریکہ وائرس کے ماخذ کی بین الاقوامی تحقیقات کو قبول کرئے

0

امریکی صدر جوبائیڈن نے 26 تاریخ کو اپنی انٹیلی جنس ایجنسی کو کورونا وائرس کے ماخذ کی تحقیقات کا حکم دیا اور کہا  ہے کہ  90 روز  میں یہ تحقیقی رپورٹ پیش کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ بین الاقوامی تحقیقات میں چین کو بھی شمولیت کی ترغیب دے گا اور  شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا۔
وائرس کا سراغ ایک عالمی فریضہ ہے۔ کووڈ-۱۹ کے ابتدائی کیسز دنیا کے مختلف حصوں میں پائے گئے ہیں ، اس لئے ضروری ہے کہ متعدد  ممالک اور مقامات پر وائرس کے ماخذ کا سراغ لگایا جائے۔دنیا میں وبا سے شدید ترین متاثرہ ملک کے طور پر ، امریکہ  کو عالمی برادری کے ساتھ فعال تعاون کرنا چاہئے۔ اگر امریکہ  لیبارٹری سے وائرس اخراج کے اپنے مفروضے کو تحقیقی سوچ کا رخ دیتا ہے تو  پھر اُسے خود سے متعلق تحقیق  قبول کرنا ہو گی۔ گزشتہ سال مارچ کے اوائل میں امریکی سی ڈی سی  کے سابق ڈائریکٹر ریڈ فیلڈ نے اعتراف کیا کہ ستمبر 2019 کے “انفلوئنزا سیزن” میں ہونے والی کچھ اموات کا سبب  کووڈ-۱۹تھا ۔ امریکہ میں نوول کورونا وائرس کا پہلا کیس کب سامنے آیا؟ اس بات کی تفتیش دنیا میں وائرس کا سراغ لگانے کے دوسرے مرحلے کی اولین ترجیح ہے۔
 اس کے علاوہ  دنیا بھر میں امریکہ کی  خفیہ حیاتیاتی لیبارٹریز نے  بھی وسیع  شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ مثلاً امریکی ریاست  میری لینڈ میں واقع فورٹ ڈیٹرک بیس  جولائی 2019 میں اچانک بند  ہو گئی۔ اس کے فوری بعد ہی نزدیکی ریاست  ورجینیا کی ایک کمیونٹی میں ، “ای سگریٹ کا مرض” پھوٹ پڑا جس میں مبتلا مریضوں کی کلینیکل علامات کووڈ-۱۹ کی علامات سے ملتی جلتی تھیں۔ کیا اس شک کو  وائرس کی عالمی کھوج کے دائرہ کار میں شامل نہیں کیا جانا چاہئے؟
   دوسری جانب اگر امریکہ سے باہر واقع سینکڑوں حیاتیاتی لیبارٹریوں کے تحفظ کی بات کی جائے تو  صورتحال اور بھی خوفناک  ہے۔ عالمی سطح پر صحت عامہ کے تحفظ کو ان لیبارٹریوں سے کیا نقصانات لاحق ہو سکتےہیں؟  وائرس کے سراغ لگانے کے اگلے مرحلے میں اس پر بھی تحقیق کی جانی چاہیے۔

SHARE

LEAVE A REPLY