وانگ ای نے فلسطین اسرائیل تنازعہ سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کی میزبانی کی

0

چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے سولہ تاریخ کو فلسطین اسرائیل تنازعہ سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی  اجلاس کی میزبانی کی۔ یہ اجلاس ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوا۔ اجلاس میں فلسطین، اردن ، مصر ، تیونس ، ناروے ، آئرلینڈ اورالجیریا کے وزرائے خارجہ ، روس کے نائب وزرائے خارجہ ، عرب لیگ ، اسرائیل ، امریکہ ، ایسٹونیا ، ویتنام ، میکسیکو کے نمائندوں ، کینیا ، برطانیہ ، بھارت ، نائجر ، اور اقوام متحدہ میں فرانس کے مستقل نمائندے نے اجلاس میں شرکت کی۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوئترس اور مشرق وسطیٰ میں قیام  امن  کے عمل کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی کوآرڈینیٹر تور  وینز لینڈ  نے اجلاس کو بریفنگ دی۔وانگ ای نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے مابین بڑھتے ہوئے تنازعہ کی وجہ سے خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوچکی ہیں اور صورتحال انتہائی نازک اور سنگین ہے ، لڑائی بند کرنا اور تشدد کو روکنا فوری طور پر ضروری ہے۔ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے ، خطے کو ہنگاموں سے بچانے اور مقامی لوگوں کی جانوں کے تحفظ کے لئےعالمی برادری کو فوری طور پر  اپنا کردار اداکرنا چاہئے۔وانگ نے کشیدگی کے خاتمے کے لئے چین کی جانب سے چار نکاتی تجویز کیا۔ پہلا، جنگ بندی اور تشدد کو روکنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ چین عام شہریوں پر تشدد کی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتا ہے ، اور ایک بار پھر دونوں فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ فوری طور پر فوجی کاروائیاں بند کردیں ، اور ایسے اقدامات اٹھانا بند کریں جس سے صورتحال خراب ہوتی ہے ، جس میں فضائی حملے ، زمینی کارروائی اور راکٹ لانچ  کرنا  شامل ہیں۔دوسرا ، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر  امداد کی فوری ضرورت ہے۔ ہم اسرائیل سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی معاہدے کی ذمہ داریوں کو پورے دل سے نبھائیں ، غزہ کی ناکہ بندی اور محاصرے کو جلد از جلد ختم کریں، مقبوضہ فلسطین کے علاقے میں شہریوں کے تحفظ اور حقوق کی ضمانت دیں ، اور انسانی امداد کے لئے رسائی فراہم کریں۔تیسرا ، بین الاقوامی تعاون سب کی ذمہ داری ہے۔ ایک ملک کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ، سلامتی کونسل اب تک یکسان  آواز اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔ ہم  امریکہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریاں نبھائے ، منصفانہ موقف اپنائے ، اور صورتحال کو حل کرنے میں اپنا بھر پور کردار ادا کرنے میں مدد کرے۔چوتھا ، “دو ریاستی حل” ہی اس صورت حال سے نکلنے کا بنیادی راستہ ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY