وانگ ای نے موجودہ فلسطین اسرائیل تنازعے پر چین کا مؤقف واضح کیا

0

پندرہ مئی کو ،چین کے  وزیر خارجہ وانگ ای نے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ٹیلیفون پر گفتگو کے دوران موجودہ فلسطین اسرائیل تنازعہ کے بارے میں چین کے مؤقف کو واضح کیا۔وانگ ای نے کہا کہ موجودہ دور کے  فلسطین اسرائیل تنازعہ  سے بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں ، جو پریشان کن ہیں۔اس بارے میں  چین کے تین خیالات ہیں ۔ چین سمجھتا ہے کہ  صورتحال کے بگاڑ کی اصل وجہ یہ ہے کہ طویل عرصے سے فلسطین کا مسئلہ منصفانہ طور پر حل نہیں ہو سکا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد نہیں ہوا ، خاص طور پر فلسطین کے آزاد ریاست کے قیام کے حق کی مسلسل خلاف ورزی ہوتی رہی ہے۔اس وقت  اولین ترجیح فائر بندی اور تشدد کو روکنا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورتحال کو  روکنے کے لئے کوشش کرے ۔ سلامتی کونسل کے موجودہ  چیئرمین ملک  کی حیثیت سے ، چین نے سلامتی کونسل کو فلسطین اسرائیل تنازعہ پر دو  بار ہنگامی مشاورت کے لئے بلایا ہے ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ سلامتی کونسل اب تک کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہی ہے ، جبکہ  امریکہ کا  اپنایا ہوا موقف بین الاقوامی انصاف کے خلاف  ہے۔ ہم سلامتی کونسل کے تمام ارکان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریاں نبھا ئیں اور علاقائی امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کے لئے پوری کوشش کریں۔تیسرا ، فلسطین کے مسئلے کا بنیادی حل “دو ریاستی حل” کا صحیح معنوں میں  نفاذ  ہے۔ چین سلامتی کونسل میں فلسطین  اسرائیل تنازعہ پر کھلی بحث کی میزبانی کرے گا ، اور ہم امید کرتے ہیں کہ تمام فریق اس پر یکجا ہوسکتی ہیں۔اس موقع پر جناب شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان فلسطین اسرائیل کے موجودہ تنازعے پر چین کے مؤقف سے اتفاق کرتا ہے اور جنگ بندی کی کوششوں، تشدد کو رکنے اور صورتحال کو معمول لانے کے لئے چین کے ساتھ رابطہ کرتا رہے گا، صورت حال کو معمول پر لانے اور تشدد کے خاتمے کے لئے اپنا اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY