“جارحانہ رویے “کا لیبل امریکہ کو خود پر لگانا چاہیئے

0
"جارحانہ رویے "کا لیبل امریکہ کو خود پر لگانا چاہیئے،سی آر آئی کا تبصرہ_fororder_22

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے دو تاریخ کو امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے وقت چین پر الزام لگایا کہ بیرونی ممالک  کے ساتھ چین کا رویہ “جارحانہ ”  ہوتا جارہاہے ۔انہوں نے دعوی کیا کہ امریکہ کا مقصد چین پر دباؤ  ڈالنا یا  چین کےراستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا نہیں ہے بلکہ عالمی اصول و ضوابط کی حفاظت کرنا ہے۔دراصل امریکہ اپنے بیان میں “امریکی اصول و ضوابط” کی جگہ “عالمی اصول و ضوابط” کا استعمال کررہا  ہے ،اس طرح امریکہ دوسرے ممالک میں اپنی مداخلت کو “انصاف”  کا رنگ دینے کی کوشش کررہاہے ۔
عشروں سے دنیا  دیکھ رہی ہے  کہ “امریکی اصول و ضوابط” دراصل  فوجی دھمکی،سیاسی تنہائی،اقتصادی پابندی اور ٹیکنالوجی ناکہ بندی سمیت مختلف طریقوں سے اپنے اسٹریٹجک اہداف حاصل  کرنا ہے۔افغانستان،عراق،لیبیا،شام سے لے کر عرب ممالک تک ،یوریشیا  ممالک سے لے کر ایران،کیوبا،وینزویلا اور چین تک،امریکہ  ہرجگہ دست درازی کا مرتکب ہورہاہے۔
اس کے ساتھ ساتھ عالمی تنظیم سمیت امریکی اتحاد بھی امریکی بالادست رویے کا شکار ہو رہے ہیں۔جرمنی سے نورڈ اسٹریم-ٹو قدرتی گیس پائپ کی تعمیر کو ختم کرنے  اور ڈینمارک کے اخبار سے چینی الیکٹرانک تنصیبات استعمال نہ کرنے کا مطالبہ  امریکہ کی اسی  بالا دست رویے  کے ثبوت  ہیں۔
لوگ  دیکھ  سکتے ہیں کہ “جارحانہ رویے “کا لیبل امریکہ ہی کو سجتاہے ۔”زور زبردستی کی سفارتکاری “میں مشغول امریکی سیاستدان امریکہ کو گمراہی کی طرف  لے جا رہے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY