زبردستی کی سفارت کاری پر امریکہ کو شرم آنی چاہیے ، چینی وزارت خارجہ

0
زبردستی  کی سفارت کاری پر امریکہ کو شرم آنی چاہیے ، چینی وزارت خارجہ_fororder_4 (2)

تیس اپریل کو چینی وزارت خارجہ کی پریس کانفرنس میں ایک نامہ نگار  نے سوال کیا  کہ ڈنمارک اخبار “سیاسی خبر” کے مطابق،  امریکی سفارت خانے نے گزشتہ ہفتے اس اخبار سے رابطہ کرتے ہوئے پوچھا کہ وہ ہوا وے،  ہیٹرا ، زیڈٹی ای ، ایچ آئی کے وژن اور داہوا ٹیکنالوجی سمیت  چینی انٹرپرائز  کےالیکٹرانک آلات کا استعمال کرتا ہے یا نہیں، اگر یہ اخبار ان سے متعلق معلومات  فراہم نہیں کرتا  یا  مذکورہ کمپنیوں کے آلات استعمال  کرتا ہے تو امریکی سفارت خانہ  اس اخبار کو سبسکرائب نہیں کرے گا۔ اس اخبار کے مطابق، امریکی سفارت خانے نے دوسرے ڈنمارک “سروس فراہم کرنے والوں”  سے  بھی یہی مطالبہ کیا ہے  اور اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ امریکہ کی طرف سے دنیا بھر میں  منظم کارروائی کا حصہ ہے۔ اس حوالے سے چین کا کیا رد عمل ہے؟
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے کہا کہ زور زبردستی کی  سفارت کاری ، امریکہ کے  علاوہ  کسی اور  ملک کو نہیں جچتی ۔ جو خبر آپ نے فراہم کی ، یہ اس کی عمدہ مثال ہے۔ امریکہ نہ صرف خود چینی کمپنیوں پر پاپندی لگاتا ہے، بلکہ دیگر ممالک کو بھی  امریکی مرضی کے مطابق چلنے پر مجبور کرتاہے۔ یہ   زبردستی کی سفارت کاری ہے۔ امریکہ کو اس پر شرم  آنی چاہیے ۔

SHARE

LEAVE A REPLY