کووڈ-۱۹ وبا پھوٹنے کے باوجود دی بیلٹ اینڈ روڈ کا تعاون مستحکم طور پر آگے بڑھا ہے

0

دی بیلٹ اینڈ روڈ” انیشیٹیو پیش کیے جانے کے بعد چین اور اس سے وابستہ ممالک کے مابین معاشی اور تجارتی تبادلے اور سرمایہ کاری کے معیار کو بڑی حد تک بلند کیا گیا ہے۔ انیس تاریخ کو بو آؤ ایشیائی فورم کے تحت “پائیدار فنانسنگ کی مدد سے دی بیلٹ اینڈ روڈ کی اعلی معیار کی تعمیر کے عنوان سے گول میز اجلاس منعقد ہوا،جس میں چین کی وزارت تجارت کے متعلقہ انچارج  نے آٹھ برسوں میں دی بیلٹ اینڈ روڈ سے وابستہ ممالک کے اقتصادی و تجارتی ثمرات کا  تعارف کیا۔متعلقہ ممالک کے مہمانوں نے بتایا کہ “دی بیلٹ اینڈ روڈ” اقدام نے ان کے ممالک کی ترقی کے  لیے مواقع پیدا کیے ہیں اور چین کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنایا  ہے ۔چین کے نائب وزیر تجارت چھین کھہ مینگ نے نشاندہی کی کہ 2013 کے بعد  بی آر آئی  ممالک اور چین کے مابین باہمی تجارت کی کل مالیت 9.2 ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچ چکی ہے  اور ان ممالک میں چین کی  براہ راست سرمایہ کاری 136 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ-۱۹ وبا کے اثرات کے باوجود  بی آر آئی  سے متعلق سرمایہ کاری اور تعاون اب بھی مستقل طور پر آگے بڑھ رہا ہے۔

پاکستان کے سابق  وزیر اعظم شوکت عزیز نے کہا کہ  “دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو سے پاکستان کے اندر  بے مثال تبدیلیاں آئی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے گوادر پورٹ تعمیر کیا ہے ، بندرگاہ کی تعمیر  نئی صنعتیں اور روزگار کے نئے مواقع  لائی ہے ، شہروں اور قصبوں میں بھی ترقی ہورہی  ہے۔ مختلف ممالک کو ملایا جا رہا ہے اور مستقبل میں  مارکیٹ ، سرمایہ کاری اور ترقی کے  مزید مواقع پیدا کیے جائیں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY