امریکہ اپنی پالیسیوں کے باعث چین سمیت دیگر ممالک کی نظر میں خود اپنا احترام کھو رہا ہے

0

معروف امریکی کالم نگار تھامس فریڈمین کا حال ہی میں “نیو یارک ٹائمز” میں ایک مضمون شائع ہوا جس میں کہا گیا ہے کہ چین کی جانب سے امریکہ کا احترام نہ کرنا ،ایک مناسب اور معقول طرز عمل ہے۔اس مضمون کی اشاعت کے بعد  شدید بحث و مباحثہ سامنے آیا ہے۔ مضمون میں ایسے حقائق کی نشاندہی کی گئی ہے کہ چین نے مسائل کا سامنا کرتے ہوئے انہیں حل کیا ہے،لیکن امریکی معاشرہ منقسم اور تنازعات میں الجھ  کر کچھ نہیں کرسکتا ہے۔انٹرنیٹ پر اس مضمون کے حوالے سے شدید ردعمل دیکھا گیا ہے۔مخالفین نے چین کی حمایت میں لکھنے پر مصنف کو تنقید کا نشانہ بنایاہے جبکہ حامیوں کے خیال میں مضمون امریکی معاشرے کے دردناک نکات کا عکاس ہے۔ چند افراد نے یہ بھی پوچھا “چین اور دوسرے ممالک کیوں امریکہ کا احترام کریں ؟ امریکہ کو دیگر ممالک کے ذریعے کیوں عزت دی جائے؟”
یہ ایک اچھا سوال ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کے لیے یہ بات قابل قبول نہیں ہے کہ دیگر ممالک اُسے برابری کی نظر سے دیکھیں۔ اسے “خود پسندی” سے بھرپور رویہ  کہا جاسکتا ہے۔ “اسٹریٹجک خودپسندی” امریکہ کو معروضی حالات کے بجائے اپنی خواہشات کے مطابق مسائل کے مطالعے اور فیصلہ سازی پر مجبور کرتی ہے۔ 
جدید دور میں امریکی تسلط قائم کرنا نوآبادیاتی لوٹ مار سے مختلف نہیں ہے ۔ دور حاضر میں امریکہ نے عراق ، لیبیا ، شام ، افغانستان اور دیگر ممالک میں “جمہوریت” کے نام پر بد امنی اور جنگیں برآمد کیں ، جس سے انسانیت سوز تباہی اور دہشت گردی کی نمو ہوئی۔امریکہ کے اندر جامع ، منظم اور مستقل طور پر نسل پرستی اور سفید فام بالادستی موجود ہیں ، نام نہاد آزادی اور مساوات نے عملی طور پر  متعدد نقائص کو بے نقاب کردیا ہے۔
 ایسا ہر گز نہیں ہے کہ چین امریکہ کا احترام نہیں کرتا ہے بلکہ حقیقیت تو یہ ہے کہ امریکہ خود اپنے آپ  کا احترام نہیں کرتا ہے۔
کئی مواقعوں پر  چینی عہدیداروں نے مشورہ دیاہے کہ امریکہ “خود  زیادہ سے زیادہ مسائل تلاش کرے”۔فریڈمین نے بھی یہی کہا کہ ان کے مضمون کا مقصد امریکیوں کو یہ سمجھانا تھا کہ  “چین واقعی قومی تعلیم کی قدر کرتا ہے ، انفراسٹرکچر کی تعمیر ، کاروبار اور سائنس میں بہترین طریقہ کار اختیار کرتا ہے ، اور قابلیت کے مطابق سرکاری افسران کو ترقی دیتا ہے۔ اگر ان معاملات میں ہم ایسا نہیں کرسکتے ہیں تو پھر چین کی مذمت کرنا بیکار ہوگا۔ “

SHARE

LEAVE A REPLY