امورسنکیانگ کےحوالے سے امریکہ اور بعض مغربی ممالک کی سازش ناکامی سے دوچار

0

حال ہی میں امریکہ اور بعض مغربی ممالک نے متعدد مرتبہ سنکیانگ کے معاملات میں مداخلت کی ہے، نام نہاد انسانی حقوق کی آڑ میں سنکیانگ میں کاٹن کی صنعت اور پیداوار کو بدنام کیا ہےاور چین کی سنکیانگ پالیسی پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ 

دنیا کے مختلف ممالک کی انصاف پسند شخصیات نے چین کے موقف کی حمایت کی ہے اور مغربی ممالک کی سازش پر تنقید کی ہے۔ چین کی کاٹن ایسوسی ایشن کے اہلکار زاو ہوئی چھین نے میڈیا بات چیت میں کہا کہ اس وقت کاٹن کی پیداوار میں وسیع پیمانے پر مشینری زیر استعمال ہے اور محدود افرادی وسائل کی ضرورت ہے۔ اسی باعث مغربی ممالک کے پاس کاٹن کی پیداوار میں جبری مشقت کے الزام کا  کوئی ثبوت نہیں ہے۔

دراصل امریکی حکومت نے اس سازش کے پیچھے کافی سرمایہ لگایا ہے، بیرون ملک ویغور  گروپس کو لاکھوں ڈالرز کے فنڈز مہیا کیے گئے ہیں اور جعلی خبروں کی تشہیر کی گئی ہے تاکہ امریکہ کے جغرافیائی و سیاسی مفادات کو پورا  کیا جا سکے۔

 سابق امریکی وزیر خارجہ کولین پاول کے معاون لارنس ویکلسن نے کہا تھا کہ چین کو غیر مستحکم کرنے کے لئے سی آئی اے  کے پاس بہترین طریقہ یہی ہے کہ چین میں بدامنی پیدا کی جائے۔ بناء کسی بیرونی مداخلت کے بیجنگ اور ویغوروں کے درمیان تنازعات پیدا کیے جائیں تاکہ چین کو اندرونی طور پر نقصان پہنچایا جا سکے۔ 

SHARE

LEAVE A REPLY