مغربی ممالک کی”افواہوں کی فیکٹری ” میں اب سنکیانگ کے کپاس کو شامل کیا جا رہا ہے

0

حالیہ  کچھ عرصہ کے دوران امریکہ سمیت کئی مغربی ممالک نے چین کے سنکیانگ میں کپاس کے حوالے سے ایک تماشا کھڑ ا کیا ہے،  دراصل یہ ان ممالک کی “افواہوں کی فیکٹری” کی نئی پیداوار ہے۔

سنکیانگ کے کپاس کے استعمال سے انکار کرنے والے اداروں کا دعوی ہے کہ ان کا فیصلہ بیٹر کاٹن انیشیٹو ،یعنی بی سی آئی نامی ایک تنظیم کے تجزیے  کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ بی سی آئی ظاہری طور پر تو ایک غیرسرکاری تنظیم ہے ،لیکن اس کے پیچھے امریکی ادارہ بنام امریکی ایجنسی  برائے بین الاقوامی ترقی کار فرما ہے  ،جو دوسرے ممالک میں دراندازی کے لیے امریکہ کا ایک اہم آلہ ہے۔ اسی لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ بی سی آئی نے کیوں اپنی شنگھائی شاخ کی پیش کردہ حقائق پر مبنی تحقیقی نتائج کو نظر انداز کر کے جھوٹ پر مبنی  بے بنیاد  رپورٹ کو اپنایا ہے۔

سنکیانگ کپاس کو “جبری مشقت “سے ملانا ،مغربی افواہوں کی فیکٹری کی ایک نئی پیداوار ہے۔ دراصل چین مخالف قوتیں  فنڈ کا استعما ل کرتے ہوئے اسکالرز یا تھنک ٹینک سے نام نہاد رپورٹس تیار کرواتی ہیں جن کی کوئی بنیاد نہیں ہوتی ،پھر مغربی ذرائع ابلاغ ان رپورٹس کو شائع کرتے ہیں،چین مخالف تنظیمیں ان کو ہوا دیتی ہیں اور سیاستدان  ان کا استعما ل کرتے ہوئے  پابندیاں عائد کرتے ہیں۔ظاہر ہے کہ افواہوں کی اس فیکٹری کے آپریٹرز  جان پوجھ کر اس حقیقت کو نظر انداز کررہے ہیں  کہ سنکیانگ میں اب کپاس کی چنائی میں بڑی تعداد میں مزدوروں کی بجائے مشینوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

سب کو یاد ہے کہ سنکیانگ کے عوام تشدد اور دہشت گردی کا شکار تھے۔موثر پالیسیوں کے نفاذ کی مدد سے گزشتہ چار سے زائد برسوں میں سنکیانگ میں  تشدد یا دہشت گردی کا کوئی  واقعہ رونما نہیں ہوا اور مقامی لوگوں کی سلامتی کو یقینی بنایا گیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY