چین کاویکسین کی منصفانہ تقسیم کوفروغ دینےکےلئےتمام فریقوں کےساتھ مل کرکام جاری رکھنےکاعزم

0

سنگاپورکےوزیراعظم لی سیئن لونگ نےحالیہ دنوں ایک میڈیاانٹرویومیں کہاکہ چین کےپاس عمدہ سائنسدان،بائیومیڈیسن اورویکسین محققین ہیں جوبہترین ویکسین تیارکرنےکی صلاحیت رکھتےہیں۔انہوں نےکہاکہ ویکسین پرسیاست اورقوم پرستی سےگریزکرناچاہیے۔اس حوالےسےچینی وزارت خارجہ کےترجمان چاؤلی جیان نےپندرہ تاریخ کومیڈیابریفنگ میں کہاکہ ویکسین وائرس کےخلاف ایک ہتھیاراورجان بچانےکی امیدہے۔ویکسین کوانسانیت کی خدمت اورتمام انسانوں کےمفادکےلیےاستعمال میں لاناچاہیے۔ ویکسین کی افادیت کااصل پیمانہ محفوظ اورقابل بھروسہ ہوناہے،اس سےقطع نظرکہ ویکسین کس ملک نےتیارکی ہے۔ چین ویکسین قوم پرستی کی مخالفت کرتاہےاورعالمی سطح پرویکسین کی منصفانہ تقسیم کوفروغ دینےکےلئےتمام فریقوں کےساتھ مل کرکام جاری رکھےگا۔ چین دوسرےممالک کےساتھ مل کرمشترکہ طورپراس وباکوشکست دینےکےلئےکام کرےگا۔

اس کے علاوہ امریکی فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن (ایفسیسی) نےحالہی میں ہواوےاورزیڈٹی ایجیسی متعددچینی کمپنیوں کوملکی سلامتی کےلئےخطرہ قراردیاہے۔ چاؤلی جیان نےکہاکہ امریکہ کےاقدامات بےبنیاداوربلاجوازہیں۔امریکی حکومت ٹیکنالوجی کےمیدان میں اپنی اجارہداری اورتسلط کوبرقراررکھنےکےلئےقومی سلامتی کےتصورکاسہارالےرہی ہے۔ امریکی حکومت نےقومی اختیارات کاغلط استعمال کیاہےاورچینی ہائیٹیک کاروباری اداروں کوبلاجوازدبایاگیاہے۔ یہ مارکیٹ کےمعاشی اصولوں سےمکمل انحراف ہےاورامریکہ کی نام نہادمنصفانہ مسابقت کوبھی عیاں کرتاہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY