چینی کمیونسٹ پارٹی کی کامیابی کا سب سے اہم راز پر روسی کمیونسٹ پارٹی کےچیئرمین کا مضمون

0

روسی اخبار “پراوڈا” نے چار مارچ کو روسی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کےجنرل سیکریٹری ، فلسفہ کے ڈاکٹرجناڈی زیوگانوف کا ایک مضمون شائع کیا جس کاعنوان ہے “چینی کمیونسٹ پارٹی کی کامیابی کا سب سے اہم راز – تاریخ اور عوام سے سیکھنا” ۔مصنف کا خیال ہے کہ چینی کمیونسٹ پارٹی نے اپنے قیام سے لے کر اب تک بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں ، جس کا سب سے نمایاں پہلو چینی عوام کا پرانے چین کی
غربت اور کمزوری سے نئے چین کی عظیم ترقی اور خوشحالی کی طرف سفر ہے۔چینی کمیونسٹ پارٹی کی کامیابی کا راز عمدہ نظریات پر عمل کرنا اور تاریخ اور عوام سے سیکھنا ہے۔
مضمون میں کہا گیا کہ سوشلزم کی ترقی میں بہت سے معاملات میں ، چینی کمیونسٹ پارٹی کو بغیر کسی تیار جواب کے آگے بڑھنا پڑا ، اور چینی کمیونسٹوں نے اپنے انتخاب خود کیے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے ملک کو بہتر طور سے جانتے ہیں اور لوگوں کی تخلیقی صلاحیتوں سے خوب واقف ہیں۔ وہ بالکل درست ہیں۔ سی پی سی اب 90 ملین سے زیادہ پارٹی ممبروں کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی سیاسی تنظیم ہے ، اور اس کا عالمی
عمل پر نمایاں اثر پڑتا ہے۔ترقی کے اس راستے پر، وقتاً فوقتاً بڑے اور خطرناک فتنے برپا ہوتے رہے۔ مارکیٹ اکانومی ماڈل کے ساتھ حدسے زیادہ جنون کی وجہ سے کچھ ممالک سوشلزم کو ترک کر کے سرمایہ داری کے پرانے راستے پر گامزن ہوگئے ۔ لیکن سی سی پی نے ایسا نہیں کیا۔ مرحوم چینی رہنما دینگ شیاؤ پھنگ کی سربراہی میں چینی کمیونسٹوں نے حیرت انگیز دانشمندی کا مظاہرہ کیا ۔انہوں نے سوشلسٹ راستے کو ترک نہیں کیا ۔ان کو آگے بڑھانے کی قوتوں میں ، لاکھوں عوام کے بلند نظریات ، بنی نوع انسان کے روشن مستقبل کے لئے خواہش ، مارکسٹ لیننسٹ اور سائنسی نظریہ پر مبنی منصفانہ معاشرے کا تصور ، اورسوشلزم کی تعمیر کے لئے چینی عوام کی انتہائی مستقل جدوجہد کے جذبات شامل ہیں۔
مضمون میں کہا گیا کہ چین میں چینی کمیونسٹ پارٹی کی اونچی حیثیت کی ایک اور اہم وجہ یہ ہے کہ چینی کمیونسٹ پارٹی ہمیشہ عوام کو مرکزی حیثیت دیتی رہی ہے۔ سی پی سی ہمیشہ لوگوں کی بڑھتی ہوئی مادی اور ثقافتی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ اس کی بدولت چین نے بہت سارے بڑے ممالک کو درپیش بہت ساری پریشانیوں سے گریز کیا ہے۔
سی پی سی نے سنہ انیس سو انچاس میں چین کو ایک سوشلسٹ ملک بنا دیا جس کےمالک چینی عوام ہیں۔پھر سی پی سی نے اپنے ملک کے حالات کے مطابق چینی خصوصیات کا حامل ترقی کا راستہ اپنایا اور چین کو دنیا کی سب سے بڑی معیشت میں سے ایک بنا دیا۔بین الاقوامی کمیونسٹ نصب العین کو درپیش مشکلات پر قاپو پا کر چینی کمیونسٹ پارٹی کمیونسٹ نظام کا پرچم اٹھا کر بین الاقوامی کمیونسٹ نصب العین کی رہنما بن گئی ہے ۔یہ سب سی پی سی کے عظیم کارنامے ہیں۔
مضمون کے آخر میں یہ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ آج چین نے نہ صرف کامیابی کے ساتھ دنیا کو معاشی بحران پر قابو پانے میں مدد فراہم کی بلکہ مستقبل کے لئے اہم اسٹریٹجک سمتوں کی نشاندہی بھی کی۔ مجھے پختہ یقین ہے کہ سی پی سی کے ذریعہ بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کا تصور چینی کمیونسٹوں کے بلند و بالا تاریخی نظریات اوراقدار پر مبنی ہے ۔ یہ تصور محض قومی منصوبہ نہیں ہے ، بلکہ پائیدار ترقی اور پرامن بقائے باہمی کی راہ پر گامزن ہونے کے لئے تمام ترقی پسند انسانوں کا مشترکہ خواب ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY