چین کا ایک بڑےمینوفیکچرنگ ملک سے ایک بڑے سائنسی ملک کی جانب مارچ جاری ہے

0

چین کے قومی شماریات بیورو نے حال ہی میں دو ہزار بیس کی قومی اقتصادی اور سماجی ترقی کی رپورٹ جاری کی جس کے مطابق ،دو ہزار بیس میں چین کی جی ڈی پی ایک سو ٹریلین چینی یوآن کی حد پار کر چکی ہے ، اور فی کس جی ڈی پی دس ہزار امریکی ڈالر سے متجاوز ہو گئی ہے۔ گزشتہ سال عالمی سطح پر شدید وبا اورعالمی معاشی کساد بازاری کے تناظر میں ،یہ حیرت انگیز اعداد و شمار چینی معیشت کی مضبوط لچک کی عکاسی کرتے ہیں۔ یکم مارچ کو منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں چین کے وزیر برائے صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی ، شاو یا چھنگ نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں چین کا صنعتی حجم تیئیس اعشاریہ پانچ ٹریلین یوآن سے بڑھ کر اکتیس اعشاریہ تین ٹریلین یوآن تک پہنچ چکا ہے ، جس کا مطلب ہے کہ چین مسلسل گیارہ سالوں سے دنیا کا سب سے بڑا مینوفیکچرنگ ملک رہا ہے۔دوسری جانب اس دوران چین نے مینوفیکچرنگ اور آئی ٹی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سائنسی تحقیق اور تخلیقات میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں ، اور اس سے متعلقہ طے شدہ تمام بڑے اہداف کی مقررہ مدت میں تکمیل کی گئی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ چین کی سائنسی جدت کی صلاحیت ، انفارمیشن انفراسٹرکچر کی تعمیر ، اطلاعاتی اور صنعتی انضمام ، ماحول دوست اور پائیدار صنعتی ترقی میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے۔گزشتہ پانچ سالوں میں متعدد کلیدی ٹیکنالوجیز اور مصنوعات کی دریافت میں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ قومی سطح کے 17مینوفیکچرنگ مراکز تعمیر کیے گئے ہیں، اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت ، ائیرو اسپیس ، گہری سمندری کھوج ، ہائی ٹیک بحری جہاز اور چہرے کی شناخت سمیت اعلیٰ ٹیکنالوجیز ، فائیو جی ٹیکنالوجی اور نیٹ ورک کی کمرشلائزیشن سمیت دیگر میدانوں میں چین نے قابل ذکر پیش رفت کی ہے اور ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں۔
تاہم اس وقت چین کی سائنسی تحقیق اور ترقی میں چند مسائل موجود ہیں ۔ کچھ کلیدی بنیادی ٹیکنالوجیز کا اب بھی دوسرے ممالک پر انحصار ہے ۔چین کی کلیدی سائنس و ٹیکنالوجی کو کس طرح بیرونی کنٹرول اور پابندی سے آزاد کیا جائے ، چین کی اعلی قیادت کو اس کا واضح ادراک ہے۔ چین کے صدر مملکت شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بنیادی اور کلیدی ٹیکنالوجیز مانگ کر حاصل نہیں کی جا سکتی ہیں
لہذا چین کو خود ہی سخت محنت کرنا ہوگی۔ سال 2020 کے دوران چین کی سنٹرل اکنامک ورک کانفرنس میں دو مرتبہ اس مسئلے کا تذکرہ کیا گیا اور واضح طور پر یہ موقف اپنایا گیا کہ بنیادی اور کلیدی ٹیکنالوجیز کی ایجاد اور تحقیق پر بھرپور زور لگایا جائے گا ، سرمایہ کاری کی جائے گی اور اپنی منفرد تیکنیکی ترجیحات اور تخلیق کو برقرار رکھا جائے گا۔
بنیادی تحقیق، سائنسی اور تکنیکی جدت طرازی کا ذریعہ اور بنیادی عنصر ہے ۔ بنیادی تحقیق کی کمی اور کمزوری چین کو درپیش اکثر تیکنیکی مسائل کا باعث ہیں۔اسی لیے چین میں جدت طرازی کی ترقی کے لئے سب سے پہلے بنیادی تحقیق کو مضبوط بنانا ہوگا۔دوسری جانب ، باصلاحیت سائنس دان اور محقیقین سائنسی اور تکنیکی ترقی کے اولین وسائل ہیں ۔چین کے پاس دنیا کا سب سے بڑا سائنسی اور تکنیکی عملہ موجود ہے
، لیکن باصلاحیت سائنس دانوں کی تربیت اور امداد و حمایت سمیت سسٹم اور میکانزم کے شعبوں میں مزید اصلاحات کی ضرورت ہے۔
علاوہ ازیں، سائنسی دریافت اور ترقی بند کمروں میں ممکن نہیں ہے۔سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی اور ایجادات کی کوئی سرحد نہیں ہونی چاہیے ، اور بین الاقوامی سائنسی اور تکنیکی تعاون کو ایک عام رجحان ہونا چاہیے۔ چینی صدر شی جن پھنگ نےگزشتہ سال سائنس دانوں کے ایک مذاکرے میں زور دیتے ہوئے کہا کہ اس بات سے قطع نظر کہ ہمیں جس قدر بھی ناکہ بندی اور دباؤ کا سامنا ہو ،ہمیں اُسی قدر مزید کھلے ،
جامع اور باہمی سودمند بین الاقوامی سائنس و ٹیکنالوجی تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔ابھی حال ہی میں چینی حکومت نے اعلی سطح کے غیر ملکی سائنس دانوں کو چین میں سائنسی تحقیق کی جانب راغب کرنے کے لئے مزید سازگار ماحول تشکیل دینے کی پالیسی جاری کی ہے ۔توقع ہے کہ بین الاقوامی سائنسی تعاون کی ترقی کے لئے چین کی جانب سے مزید حوصلہ افزا پالیسیاں سامنے آئیں گی ۔
مارچ میں چین کی قومی عوامی کانگریس اور قومی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کے سالانہ اجلاس منعقد ہو رہے ہیں ۔ان دو اجلاسوں میں سائنسی اور تکنیکی حلقوں سے وابستہ بے شمارشخصیات شریک ہوں گی۔ توقع ہے کہ ان سائنس دانوں کی جانب سے سائنسی تحقیق اور ترقی کے حوالے سے درپیش مسائل کے حل کے لیے دانشمندانہ تجاویز پیش کی جائیں گی اور جامع مشاورت کی روشنی میں چین کے لئے کلیدی بنیادی ٹیکنالوجی کی ترقی کا راستہ مزید واضح ہوجائے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY