امریکہ کی موجودہ سیاسی پولرائزیشن کی فضا اورپیرس معاہدہ پر عمل درآمد

0

امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے انیس تاریخ کو “پیرس معاہدہ” میں دوبارہ باضابطہ شمولیت کا اعلان کیا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئتریس نے اس پیش رفت کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے   امریکی اقدام کو سراہا۔گوئتریس کا بیانیہ عالمی برادری کے مشترکہ نظریے کا عکاس ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے سب کومل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔حالیہ عرصے میں یہ دیکھا گیا ہے کہ بائیڈن کے اقتدارسنبھالنے کے بعد ، انہوں نے 2035 تک بجلی کی صنعت میں کاربن کے صفر اخراج اور 2050 تک کاربن نیوٹرل کے حصول کے منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے متعدد انتظامی احکامات پر دستخط کیے ہیں۔ تاہم بائیڈن کے اس پرجوش منصوبے کی ریپبلکن پارٹی کی جانب سے پہلے بھی شدید مخالفت کی گئی تھی ۔ امریکہ کی موجودہ سیاسی پولرائزیشن کی فضا میں نعروں کو کیسے عملی شکل میں ڈھالا جائے، معاہدوں کو کیسے
یکطرفہ پسندی کا شکار ہونے سے بچایا جائے اور امریکی موسمیاتی پالیسی کے تسلسل کو کیسے یقینی بنایا جائے ، یہ وہ تمام سوالات ہیں جن کی بائیڈن انتظامیہ کو فوری طورپر جواب دینے کی ضرورت ہے۔
بنی نوع انسان کے مشترکہ مستقبل کے تناظر میں موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنا لازم ہے ۔یکطرفہ پسندی کی ہر گز کوئی گنجائش نہیں ہے۔ “مذاکرات و مشاورت اورعملی اقدامات” کے ساتھ ساتھ کثیرالجہتی پر عمل پیرا ہونے سے ہی مشترکہ مفاد کا حصول ممکن ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY