دلیپ کمار اپنا آبائی گھر پشاور کے لوگوں کو تحفہ دینا چاہتے تھے، بھتیجے کا دعویٰ

0

نئی دہلی: بالی ووڈ کے لیجنڈ اداکار دلیپ کمار کے پاکستان میں موجود بھتیجے فواد اسحاق کا کہنا ہے کہ دلیپ کمار پشاور میں موجود اپنا آبائی گھر پشاور کے لوگوں کو تحفے میں دینا چاہتے تھے۔

انڈسٹریلسٹ اور سرحد چیمبر آف کامرس کے سابق سربراہ فواد اسحاق نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے نام پر دلیپ کمار کے پشاور میں موجود آبائی گھر کا مناسب اور قانونی اختیار نامہ (پاور آف اٹارنی) ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دلیپ کمار نے 2012 میں اپنی جائیداد کی پاور آف اٹارنی کا مناسب مسودہ تیار کروایا تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے چچا دلیپ کمار کے دل میں پشاور کے لوگوں کے لیے بہت احترام ہے اور وہ اپنا آبائی گھر پشاور کے باشندوں کو تحفہ دینا چاہتے تھے۔ دلیپ کمار کی پشاور اور وہاں کے لوگوں کے لیے محبت دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوئی ہے۔

دلیپ کمار کے بھتیجے کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب خیبرپختونخوا حکومت اور پشاور میں دلیپ کمار کے گھر کے موجودہ مالک کو مکان کی قیمت کے معاملے پر کسی تصفیہ تک پہنچنے کے لیے کہاگیا ہے تاکہ مکان کو میوزیم میں تبدیل کرنے کا اگلا قدم اٹھایا جاسکے۔

دلیپ کمار کے گھر کے موجودہ مالکان اورحکومت میں تنازع کیا ہے؟

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے گزشتہ سال دلیپ کمار اور کپور فیملی کے آبائی گھروں کو محفوظ اثاثہ قرار دے کر ان کو حاصل کرنے کا نوٹی فیکیشن جاری کیا تھا۔ دلیپ کمار کا مکان پشاور کے قصہ خوانی بازار میں محلہ خداداد میں واقع ہے اور اس کا کل رقبہ چار مرلے بتایا گیا ہے۔

اس کا تعمیرات والا حصہ 1077 مربع فٹ سے کچھ زیادہ ہے۔ اس زمین کی قیمت 72 لاکھ 80 ہزار سے زیادہ مقرر کی گئی ہے جبکہ اس مکان کے ملبے کی قیمت کا تخمینہ 7 لاکھ 76 ہزار سے زیادہ لگایا گیا ہے۔ اس حساب سے دلیپ کمار کے گھر کی قیمت 80 لاکھ 56 ہزار سے زیادہ مقرر کی گئی ہے۔

تاہم اس قیمت پر گھر کے موجودہ مالک کو اعتراض ہے اور وہ 80 لاکھ روپے میں یہ گھر فروخت کرنا نہیں چاہتے۔ پشاور کے مقامی میڈیا کے مطابق حاجی لال محمد کا کہنا ہے کہ گھر کی موجودہ قیمت کم از کم 25 کروڑ ہے۔

دوسری جانب دلیپ کمار کے ترجمان فیصل فاروقی نے پشاور میں دلیپ کمار کے آبائی گھر کے حوالے سے موجودہ مالکان اور حکومت کے درمیان تنازع کو جلد از جلد حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY