چین میں بی بی سی کی نشریات پر پابندی کے حوالے سے برطانوی وزیر خارجہ کے ردعمل پرچینی سفارتخانے کا جواب

0

حال ہی میں چینی حکومت نے چین میں بی بی سی کی نشریات کا اجازت نامہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ۔11 فروری کو ، برطانوی وزیر برائے خارجہ و ترقیاتی امور نےایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ “چین کا بی بی سی ورلڈ نیوز کو چین میں کام کرنے سے روکنے کا فیصلہ میڈیا آزادی کی خلاف ورزی ہے اور یہ ناقابل قبول ہے۔”
اس حوالے سے برطانیہ میں چینی سفارتخانے کے ترجمان نے کہا کہ کچھ عرصے سے ، بی بی سی کی چین سے متعلقہ رپورٹنگ نے “ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی انتظامیہ کے ضوابط” اور “بیرون ملک سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کی لینڈنگ کی انتظامی قوانین” کی متعلقہ دفعات کی سنگین خلاف ورزی کی ہے،جس سے چین کے قومی مفادات اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا ۔یہ رپورٹنگ خبروں کی سچائی اور انصاف پسندی کے تقاضوں کے خلاف ہے ۔اس لئے چین کی ریڈیو اور ٹیلی ویژن انتظامیہ نے بی بی سی ورلڈ نیوزکی نشریات کا اجازت نامہ منسوخ کرنے اور نئے سال کے لئے بی بی سی کی متعلقہ درخواست کو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بی بی سی کی چین سے وابستہ رپورٹس “جھوٹ” سے بھری ہیں ، جو نہ صرف صحافت کی پیشہ ورانہ اخلاقیات کی خلاف ورزی ہے ، بلکہ دوہرے معیار اور شدید نظریاتی تعصب سے بھی بھری ہوئی ہے ، جس سے چینی عوام میں شدید غم و غصہ پیدا ہوا ہے۔ کچھ لوگوں نے خبروں کی آزادی کو مغربی میڈیا کے لئے جعلی خبریں جاری کرنے اور دوسرے ممالک کے خلاف افواہیں پھیلانے کا بہانہ بنا لیا ہے۔ دنیا کا ہر ملک نیوز میڈیا کی ضروری نگرانی کرتا ہے۔ چین کی ریڈیو اور ٹیلی ویژن انتظامیہ نے بی بی سی پرجو پابندی لگائی ہے وہ قانون کےمطابق اور جائز ہے۔ ہم بی بی سی سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ سرد جنگ کی ذہنیت کو ترک کرے ، جعلی خبریں پھیلانا بند کرے ، غیرمنصفانہ ، جانبداری اور غیر ذمہ دارانہ اطلاعات اور چینی کمیونسٹ پارٹی اور چینی حکومت کو بدنام کرنے کےسلسلے کو روکے نیز متعلقہ رپورٹس کے منفی اثرات کو ختم کرنے کی کوشش کرے۔

SHARE

LEAVE A REPLY