صدر شی جن پھںگ کی امریکی صدر بائیڈن سے ٹیلی فونک گفتگو

0

گیارہ فروری کو  نئے چینی سال کی آمد کے موقع  پر  ، صدر شی جن پھنگ نے امریکی صدر جو بائیڈن سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ دونوں سربراہان مملکت نے ایک دوسرے کو نئے چینی سال کی آمد پر مبارک باد پیش کی اور دوطرفہ تعلقات اور اہم بین الاقوامی اور علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
مسٹر  جو بائیڈن نے چینی عوام کو نئے سال کی مبارکباد دی اور  چین کی ترقی و خوشحالی کے لئے نیک تمناؤں کا ا ظہار کیا۔ صدر شی جن پھنگ نے ایک بار پھر  جو بائیڈن کو  امریکی صدر منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کی ۔انہوں نے  نشاندہی کی کہ گزشتہ نصف صدی کے دوران بین الاقوامی تعلقات میں سب سے اہم واقعہ چین اور امریکہ کے  تعلقات کی بحالی اور ترقی کا ہے۔ اگرچہ اس عرصے کے دوران بہت ساری مشکلات پیش آئیں ، تاہم دو طرفہ تعلقات کی ترقی جاری رہی اور اس ترقی سے نتیجہ خیز ثمرات حاصل ہوئے ، جس سے دونوں  ملکوں کے عوام کو فائدہ ہوا اور عالمی امن ، استحکام اور خوشحالی کو فروغ ملا۔ چین امریکہ  تعاون  دونوں ممالک کے لئے مفید ہے ، مقابلہ اور  صف آرائی سے دونوں کو تکلیف ہوگی ۔دونوں فریقوں کے لئے تعاون ہی واحد درست انتخاب ہے۔ چین اور امریکہ کا تعاون دنیا کے لئے  بہت اہم خدمات سرانجام دے سکتا ہےجبکہ دو طرفہ  تصادم یقیناً دونوں ممالک اور دنیا کے لئے آفت کے مترادف ہے۔
شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین اور امریکہ کے درمیان کچھ معاملات پر مختلف آراء موجود ہیں۔اس سلسلے میں دونوں کو  ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے ، ایک دوسرے کے ساتھ یکساں سلوک کرنا چاہیے اور ان کا تعمیری انداز میں  انتظام کرنا چاہیے۔ تائیوان ، ہانگ کانگ اور سنکیانگ سے وابستہ معاملات چین کے داخلی امور ہیں ، یہ چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت سے متعلق ہیں ۔امریکہ کو چین کے بنیادی مفادات کا احترام کرنا چاہئے اور محتاط انداز میں کام کرنا چاہئے۔
شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ غیر یقینی صورتحال سے بھری موجودہ بین الاقوامی صورتحال کے تناظر میں  ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ممبر کی حیثیت سے ،چین اور امریکہ  پر خصوصی بین الاقوامی ذمہ داریاں عائد ہیں۔ دونوں فریقوں کو چاہئے کہ  ایشیاء بحر الکاہل خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے  اور عالمی امن و ترقی کو فروغ دینے کی پوری کوشش کریں ۔
اس موقع پر مسٹر جو بائیڈن نے کہا کہ چین طویل تاریخ اور عظیم تہذیب  کا حامل ملک ہے اور چینی عوام عظیم لوگ ہیں۔ امریکہ اور چین کو تنازعات سے گریز کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ   دونوں ماحولیاتی تبدیلی جیسے شعبوں  میں وسیع پیمانے پر  تعاون کر سکتے ہیں۔ امریکہ باہمی احترام کے جذبے سے چین کے ساتھ واضح اور تعمیری بات چیت کرنے پر تیار ہے ، تاکہ باہمی افہام و تفہیم میں اضافہ ہو اور غلط فہمیوں سے بچا جاسکے۔
دونوں ممالک کے رہنماؤں  نے یہ  خیال ظاہر  کیا کہ آج کی دو طرفہ بات چیت نے   دنیا کو ایک مثبت سگنل بھیجا ہے،دونوں فریق چین امریکہ تعلقات اور مشترکہ تشویش کے امور پر قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کرتے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY