ایک محفوظ اور دلوں کو چھو لینے والی دنیا کی سب سے بڑی سفری سرگرمی اور عارضی نقل مکانی چھونگ یون ۔

0

چین کا روایتی تہوار جشن بہار چین کا سب سے اہم تہوار ہے۔ یہ خاندان کے ملاپ کا جشن ہے جس کی خوشی منانے کے لئے تارک وطن چینی شہری اپنے آبائی گھر سے  جتنے بھی دور رہتے ہوں ،اُن کی پہلی ترجیح ہوتی ہے  کہ جشن بہار کے موقع پر ضرور گھر واپس جائیں اور  گھر والوں کے ساتھ جشن بہار منائیں۔ اس لئے ہر سال جشن بہار سے قبل اور اس کے بعد بڑی تعداد میں چینی لوگ سفر کرتے ہیں جس کے نتیجے میں دنیا میں سب سے بڑی عارضی نقل مکانی وجود میں آتی ہے جس کو چینی زبان میں چھونگ  یون کہتے ہیں۔
کووڈ-۱۹ کی وبا کے تناظر میں ،رواں سال جشن بہار کے موقع پر بے شمار چینی شہریوں نے حکومت کی اپیل پر عملدرآمد کرتے ہوئے اپنے آبائی گھروں کو واپس نہ جانے کا فیصلہ کیاہے  ۔ اس کے نتیجے میں  جشن بہار  کے دوران اگرچہ مسافروں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے ، لیکن اس کے باوجود چھونگ یون کا دباؤ کم نہیں ہوا ہے۔ اس بات کو  یقینی بنانا کہ جشن بہار کی سفری سرگرمیوں کے دوران  وبا  نہ پھیل سکے اور لوگوں کی صحت، حفاظت ، اور منظم سفر کی ضمانت دینا نقل و حمل کے شعبے کے لئے ایک بہت بڑاامتحان ہے۔
مسافروں کی سفری سیکیورٹی اور  صحت  کو یقینی بنانے کے لئے  چین کے  محکمہ ٹرانسپورٹ نے انسداد وبا کے عملی اور مؤثر اقدامات اٹھائے ہیں: شہری ہوا بازی کے نگران محکمے  مسافروں کے لیے حفاظتی اقدامات کے علاوہ ، مسافروں کو ان کی منازل پر نیوکلیک ایسڈ ٹیسٹ سرٹیفکیٹ اور “ہیلتھ کوڈ” اور انسداد وبا  کے دیگر تقاضوں سے بر وقت آگاہ کر رہے ہیں۔  ریلوے  کی جانب سے الیکٹرانک ٹکٹ ، خودکار داخلے  اور سیلف سروس  چینلز ، چہرے کے شناختی سسٹم  سمیت “کانٹیکٹ لیس” خدمات کا انتظام کیا گیا ہے
 ،  بزرگوں اور دوسرے  خصوصی گروپس کے لئے “نو ہیلتھ کوڈ ” چینلز کھولے گئےہیں۔اس طرح  لوگوں کے لئے محفوظ اور صحتمند سفر ی ماحول فراہم کیا گیا ہے۔
حالیہ وبائی صورتحال کے تناظر میں ریلوے ، شہری ہوا بازی اور دیگر محکموں نے  ٹکٹس کی قبل از وقت فروخت سمیت مسافروں کے لیے بناء کسی اضافی قیمت کے ٹکٹس  واپسی کے طریقہ کار میں سہولیات فراہم کی ہیں۔ اس کے علاوہ  اشیائے ضروریہ  کی نقل و حمل ،ڈاک اور ایکسپریس ترسیل کی ضمانت  دی گئی ہے اور  دور دراز علاقوں کے لوگوں کےلئے  بہترین  سفری خدمات کا بندوبست بھی کیا گیا ہے۔
انسداد وبا  کی جدوجہد میں  معمولی سی بھی لاپرواہی نہیں ہونی چاہیے۔ صرف سخت انسدادی اقدامات اور نقل و حمل کے بہتر  بندوبست  سے ہی  لوگوں کی گھر واپسی  کا سفر آسان اور محفوظ ہو سکتا ہے  اور جشن بہار  کی خوشیوں  کا لطف دوبالا ہو سکتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY