انسداد بدعنوانی اور پاکیزہ سیاست __شی جن پھنگ کے اقوال

0

” اختیار کو نظام کےکٹہرے میں لایا جائے “
” اختیار کو نظام کےکٹہرے میں لایا جائے “۔ بائیس جنوری دو ہزار تیرہ کومنعقدہ چینی کمیونسٹ پارٹی کے اٹھارہویں مرکزی انضباطی و معائنہ کمیشن کےدوسرے کل رکنی اجلاس سے اپنے خطاب میں یہ ہدایت جاری کی ۔ صدر صاحب نےتشبیہ دیتے ہوئے سائنسی اور موثر پاور آپریٹنگ سسٹم کی تشکیل اور انسداد بدعنوانی
کی سمت کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ اختیار کو نظام کےکٹہرے میں لایا جائے ۔اس کےمعنی یہ ہیں کہ اختیار کی پابندی اور نگرانی کو مضبوط بنایا جائے تاکہ اختیار کودرست مدار پر چلایا جائے اور اس کے درست استعمال کو یقینی بنایا جائے ۔
فرانسیسی عظیم مفکر اور قانون داں مانسٹجیو نے اپنی کتاب “دی اسپریٹ آف لاء”میں لکھا ہے کہ “با اختیار ہر شخص کے لیے اپنا اختیار کا غلط استعمال کرنا آسان ہے”۔ واقعی اختیار پر کوئی پابندی نہ لگایا جائے تو یہ ناگزیر طور پر بدعنوانی کاباعث بنے گا۔صرف نظام کی نگرانی ، ضوابط اور پابندی سے ہی اختیار کے جائز
استعمال کو یقینی بنایا جاسکتا ہے اور با اختیار عہدے دار اختیار کے منصفانہ اورانصاف کا تحفظ کر سکتے ہیں ۔
قانون کے تحت اختیار کے فعال اور درست استعمال سے لوگوں کو فائدہ ہوسکتا ہے ، اس کے برعکس ملک اور عوام کو نقصان پہنچے گا۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کے با اختیار رہنماوں کو عوام کی طرف سے اختیار دی جاتی ہے ، اس لیے انہیں لوگوں کی خدمت کرنا ، عوام کے لئے ذمہ دار ہونا اور شعوری طور پر عوام کی نگرانی کو قبول کرنا چاہئے۔ کسی کو بھی قانون سے بالاتر مطلق طاقت حاصل نہیں ہے ۔ ایک صاف ستھری حکومت عوام کا اعتماد حاصل کر سکتی ہیں اور اختار کا منصفانہ استعمال لوگوں کے دل جیت سکتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY