شی جن پھنگ کی چین کی پرامن ترقی کی وضاحت

0

آج سے آٹھ سال قبل، اٹھائیس جنوری دو ہزار تیرہ کو، چینی کمیونسٹ پارٹی کی اٹھارہویں مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو میں”پرامن ترقی کی راہ پر گامزن” کے عنوان سے اجتماعی تعلیم کا اہتمام کیا گیا ۔اس موقع پر شی جن پھنگ نے صدارت کرتے ہوئے واضح کیا کہ “پرامن ترقی کی راہ کی بنیاد مضبوط کرنا ضروری ہے۔” اس کے بعدسے، انہوں نے متعدد مواقع پر چین کی پرامن ترقی کے راستے کو دنیا کے سامنے واضح کیا۔ پرامن ترقی کے راستے پر قائم رہنا شی جن پھنگ کی سفارتی سوچ کا مرکز بن گیا ہے۔
سترہ نومبر دو ہزار چودہ کو آسٹریلوی وفاقی پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ چینی عوام پرامن ترقی کی راہ پر گامزن ہیں اور پوری امید ہے کہ دنیا کے تمام ممالک پرامن ترقی کی راہ پر گامزن ہوں گے، امن کے لئے خطرناک اور نقصان پہنچانے والے عوامل کا مشترکہ طور پر جواب دیں گے اور پائیدار امن اور مشترکہ خوشحالی کی حامل ہم آہنگ دنیا کی تعمیر کے لئے ہاتھ ملائیں گے۔ اٹھائیس مارچ دو ہزار چودہ کو جرمنی کے کولبر فاؤنڈیشن میں شی جن پھنگ نے پرامن ترقی کے راستے پر چین کی پیروی کے موضوع پر ایک خصوصی تقریر کی، اور چین کے ترقیاتی راستے کی جامع وضاحت پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ چینی قوم ایک امن پسند قوم ہے۔ چین ‘مضبوط ملک کا بالادست ہونا ضروری ہے’ کی فرسودہ منطق سے اتفاق نہیں کرتا ۔ کیا آج کی دنیا میں، استعمار کا پرانا راستہ اب بھی کارآمد ہے؟ جواب نفی ہے۔ صرف پر امن ترقی کی راہیں ہی کام کر سکتی ہیں۔ لہذا، چین پرامن ترقی کی منطقی راہ پر گامزن رہےگا۔ شی جن پھنگ نے اپنی تقریر میں نشاندہی کی کہ چین ہمیشہ پرامن آزاد خارجہ پالیسی پر کاربند رہا ہے اور ہمیشہ اس بات پر زور دیتارہا ہے کہ چین کی خارجہ پالیسی کا مقصد عالمی امن کو برقرار رکھنا اور مشترکہ ترقی کو فروغ دینا ہے۔ چین نے متعدد مواقع پر برملا اس بات کا اظہارکیاہے کہ چین کسی بھی قسم کے تسلط اور اقتدار کی سیاست کی مخالفت کرتا ہے، دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے اجتناب کرتاہے، اور کبھی بھی توسیع پسندانہ کاروائیوں میں ملوث نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا، “ہم نے اس چیز کو پالیسی کا مستقل حصہ بنایا ہے، اپنے نظام میں پرویا ہے، اور ہماراعمل اس کا عملی نمونہ ہے۔”

SHARE

LEAVE A REPLY