اقوام متحدہ نے بیرونی سرمایہ کاری کے لحاظ سے چین کو دنیا میں سرفہرست قرار دیا ہے

0

چوبیس جنوری کو اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی نے عالمی سرمایہ کاری کے رجحانات سے متعلق تازہ ترین مانیٹرنگ رپورٹ جاری کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2020 میں عالمی بیرونی براہ راست سرمایہ کاری میں 42 فیصد کمی واقع ہوئی اور 2021 میں اس میں مزید کمی کا امکان ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ 2020 میں چین میں بیرونی سرمایہ کاری پہلی مرتبہ امریکہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے عالمی سطح پرسرفہرست ہے ۔ چین بیرونی سرمایہ کاری کے حوالے سے دنیا کا سب سےبڑاملک بن چکا ہے۔
کانفرنس کے سرمایہ کاری اور انٹرپرائز ڈویژن کے ڈائریکٹر ، چان شیوننگ نے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ تخمینوں کے مطابق 2020 میں چین میں بیرونی سرمائے کے حقیقی استعمال میں سالانہ بنیادوں پر چار فیصداضافے سے مجموعی مالیت 163 بلین امریکی ڈالرز تک پہنچ چکی ہے ۔ چین کا عالمی سطح پر بیرونی سرمایہ کاری میں شیئر 19 فیصد تک پہنچ چکا ہے،اس اعتبار سے چین عالمی سطح پر بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کا نمایاں ترین مقام بن چکا ہے۔ وبا کے دوران بھی چین میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے صنعتی چین اور سپلائی چین پر اعلیٰ انحصار نے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کے استحکام اور توسیع کو برقرار رکھا اور کچھ صنعتوں کی مزید شروعات نے نئی بیرونی سرمایہ کاری کی ترقی کو بھی فروغ دیا ہے۔ چینی حکومت نے بیرونی سرمایہ کاری کو مستحکم کرنے کے لیے سازگارپالیسیاں اپنائی ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY