بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر ،عالمی مسائل کے حل کی کلید

0

18 جنوری 2017 کو چینی صدر شی جن پھنگ نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے صدر دفترمیں ایک اہم خطاب کیا  جس میں بنی نوع انسان کے ایک ایسے ہم نصیب معاشرے کےتصور کی وضاحت کی گئی جو پائیدار امن ، عالمی سلامتی ، مشترکہ خوشحالی ، کشادگی، رواداری ، شفاف اور خوبصورت دنیا کی تعمیر کی حمایت کرتا ہے۔ گزشتہ چار برسوں سے دنیا کو متواتر بحرانوں اور چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نمٹناکسی ایک ملک کے بس کی بات نہیں ہے۔بالخصوص گزشتہ برس سے انسانیت کوکووڈ۔۱۹ کی صورت میں ایک صدی کی بڑی آزمائش کا سامنا ہے۔ اس عالمی بحران کی وجہ سے دنیا کی سیاسی اور معاشی صورتحال شدید طور پر متاثر ہوئی ہے اور تمام ممالک میں انسانی جانوں کو خطرات لاحق ہیں۔بلاشبہ بنی نوع انسان کی تقدیر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔اسی باعث صدر شی جن پھنگ کے بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کے تصور کو عالمی برادری میں وسیع پیمانے پر سراہا گیا ہے۔
چین نے اسی تصور کی روشنی میں عملی اقدامات اٹھائے ہیں: اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر بین الاقوامی نظام کا مضبوطی سے تحفظ ، جی 20 جیسے کثیرالجہتی میکانزم کی تعمیر میں فعال طور پر شرکت، برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے فورمز کے تحت چین ہمیشہ تاریخ کی درست سمت میں کھڑا رہا ہے ،چین کی جانب سےعالمی معاشی نمومیں اوسطاً سالانہ تیس فیصد شراکت اور  دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو سے ایک کھلی معیشت کو فروغ دیا گیا ہے۔ دنیا کے ساتھ چین کے ترقیاتی ثمرات کا تبادلہ ، انصاف اور باہمی مفاد کے درست نظریے پر قائم رہنا ، ترقی پزیر ممالک کی فعال طور پر مدد کرنا ، اوراس وبا کے دوران چین کی تاریخ میں سب سے بڑی عالمی انسانیت دوست سرگرمیوں کاآغاز ، یہ ثابت کرتے ہیں کہ چین ہمیشہ عالمی امن کا محور ، عالمی ترقی میں مددگار اوربین الاقوامی نظام کا محافظ ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY