امریکہ کونسل پرستی کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے

0

سنکیانگ امور سے متعلق افواہیں پھیلا کر چین کو بدنام کرنا کچھ امریکی سیاست دانوں کا حربہ ہے ۔ موجودہ امریکی حکومت کی مدت اب تقریباً مکمل ہو گئی ہے یعنی اس کے محض چند دن باقی ہیں اور اسی لیے یہ چین کےخلاف زیادہ سر گرم ہو گئے ہیں ۔ یہاں تک کہ انہوں نے سنکیانگ سے متعلق قرارداد کی تجویز پیش کی اور سنسنی خیز افواہوں کے ذریعے سنکیانگ میں نام نہاد ” نسل کشی “کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ ” چینی حکومت کو اس کی ذمہ داری لینی چاہیے۔ “
نسل کشی ہو رہی ہے یا نہیں ،  آبادی بڑھنے کے اعداد و شمار اس کے خلاف سب سے ٹھوس اور ناقابلِ تردید ثبوت ہیں۔ حال ہی میں سنکیانگ میں مقامی عہدیداروں نےبتایا کہ سنکیانگ میں 2010 سے 2018 تک ویغور آبادی10.17ملین سے بڑھ کر 12.72 ملین ہوگئی ہے ۔ آبادی میں  25.04 فی صداضافہ ہوا ہے۔ اگر چین مخالف بیان بازی درست ہے تو  پھر ایسا کیسے ممکن ہے کہ ویغور آبادی بڑھی  ہے؟
اگر نسل کشی کی بات کی جائے تو خود  امریکہ وہ  ملک ہے جہاں واقعتا یہ طرز عمل موجود ہے۔امریکہ کی ترقی کی تاریخ  گواہ ہے کہ امریکی حکومت نے مقامی ریڈ انڈینز  کی  نسل کشی کی ، علیحدگی اور جبری الحاق کی پالیسی پر عمل درآمد کیا ، اور انہیں ان کے جائز حقوق سے محروم کیا ۔1492میں ان کی آبادی5 ملین تھی جو کہ  بیسویں صدی کے آغاز تک ، کم ہوکر 250،000  رہ گئی ۔
حالیہ برسوں میں ، امریکی حکومت نے عراق ، شام ، لیبیا ، اور افغانستان جیسے مسلم ممالک میں انسدادِ دہشت گردی کے بہانے  جنگوں کا میدان گرم کیا،  جس کے نتیجے میں لاکھوں بے گناہ مسلمان  ہلاک ہوئے۔خود امریکہ میں مسلمانوں کی حالتِ زار اچھی نہیں ہے۔ 2017 کے اوائل میں پیو ریسرچ سینٹر  کے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ امریکہ میں  75 فیصد بالغ مسلمانوں کا ماننا تھا کہ انہیں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔امریکی وزیر خارجہ پومپیو مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کے حوالے سے امتیازی رویہ رکھتے ہیں خاص طور پر مسلم امیگریشن پر پابندی کی حمایت کرتے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ وہ  سیاستدان جو اپنے ہی ملک کے مسلمان شہریوں کے حوالے سے متعصبانہ رویہ رکھتا ہو ،وہ سنکیانگ کی ویغور قومیت کےدکھ کا احساس کرنے  اوران کی فکرکرنےکادعوی کیسےکرسکتاہے ؟

SHARE

LEAVE A REPLY