بنی نوع انسان کا روشن اور محفوظ مستقبل، چین کا خواب۔

0

نئی امیدوں ،امنگوں اور نئے عہد وپیمان کے ساتھ ۲۰۲۱ کا آغاز ہوچکا ہے۔۲۰۲۰ ہر لحاظ سے ایک طلا طم خیز سال ثابت ہوا جس میں کووڈ۔۱۹ نے پوری دنیا میں طوفان برپا کیا۔ جہاں تیزی ، آسانی اور بڑے پیمانے پرپھیلنے والے نوول کورونا وائرس نے کرہ ارض پررہنے والے تقریبا ہر فرد کو بلاواسطہ یا بالواسطہ متاثرکیا وہاں بین الاقوامی افق پر بھی کئی تبدیلیوں کا باعث بنا ۔ ۲۰۲۰ کے دوران وبانے زیادہ تر ممالک کوبری طرح جکڑ لیا اوران کی توانائیاں اور کوششیں اس کیخلاف جنگ میں صرف ہوتی رہیں۔ جہاں عوامی جمہوریہ چین نے اس وبا کیخلاف منظم ، ہمہ گیر ، جامع اور بھرپور جدوجہد کے ذریعے فتح حاصل کی وہاں بعض ممالک اندرونی انتشارکاشکار رہے ۔ان ممالک کے رہنما وبا پر توجہ دینے کی بجائے لعن طعن اور الزام تراشی میں مصروف رہے ، دوسرے ممالک کے اندرونی امور میں مداخلت کا ارتکاب کرتے رہے اوروباکیخلاف اپنی ناکامی کا ملبہ دوسرے ممالک پر ڈالتےرہے۔ وبانے ان ممالک کو بری طرح ایکسپوزکیاوبانے دنیا کے سپر پاور کے دعویدار کےاندر کمزوریوں کو بے نقاب کیا۔ دوسری طرف بین الاقوامی سطح پر بھی اس ملک کا کردارمسائل پیدا کرنے والا کا رہا اور دنیا کے امن اور ترقی میں حصہ ڈالنے کے بجائے یہ ملک دنیا کو تقسیم کرنے اور نفرتیں بانٹنے میں مصروف رہا۔ اپنی نااہلی اور نالائقی کی وجہ سےعالمی معاہدوں اور اداروں سے دستبردار ہوتا رہا اور ذاتی مفاد کی خاطر دوسرے ممالک کوپابندیوں کے ذریعے ڈراتا دھمکاتا رہا۔ دوسری طرف عوامی جمہوریہ چین کا کردار انتہائی ذمہ دارانہ رہا جہاں عوامی جمہوریہ چین نے نہ صرف مشکل وقت میں دوسرے ممالک کےساتھ یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کرتارہاوہاں ان کو انسداد وبا کیلئے امداد اور سازوسامان بھی مہیا کرتا رہا اور وباسے متعلق ان ممالک اور عالمی اداروں کے ساتھ تجربات اورمعلومات کا بروقت تبادلہ کرتا رہا۔ عالمی سپلائی چین میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنےوالے ملک کی حیثیت سے چین نے دنیا میں اشیا کی رسد و ترسیل کو رواں دواں رکھنے میں اہم کردارادا کیا ۔ اس کے علاوہ عالمی معیشت کی بحالی میں چین کا حصہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے معترف عالمی ادارے بھی ہیں ۔ وبا کےدوران ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے،انسانیت کا د کھ محسوس کرنے اور تعاون اور اتحاد کاعلم بلند کرنے والے ملک کی حیثیت سے عالمی برادری میں چین کا قد مزید اونچا ہوگیا ہے۔
عوامی جمہوریہ چین کے اس کردار کے پیچھے چینی صدر شی جن پھنگ کا بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کا عظیم تصورہے ۔اس تصور کے تحت تمام انسان ایک ہی کشتی کےسوارہیں اور ان کے نصیب ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔ عوامی جمہویہ چین کے بین الاقوامی تعلقات میں یہ تصور کلیدی اہمیت رکھتاہے۔ اس کا اظہار چینی ریاستی کونسل کےدفتر اطلاعات کی جانب سے  دس جنوری کو “نئے عہد میں چین کے بین الاقوامی ترقیاتی تعاون ” کےعنوان سے  وائٹ پیپر میں بھی کیا گیاہے۔ جو مسقبل میں بین لاقوامی تعلقات کے حوالے سے چین کے کردار پر روشنی ڈالتاہے۔
وائٹ پیپر کے مطابق چینی کمیونسٹ پارٹی کی اٹھارہویں قومی کانگریس کے بعد چین کےبین الاقوامی ترقیاتی تعاون کے پھیلاو میں وسعت آرہی ہے اور ایشیا و افریقہ کے  کم ترقی یافتہ ممالک اور “دی بیلٹ اینڈ روڈ ” سے وابستہ ترقی پزیر ممالک کو ترجیح دی جارہی ہے۔مستقبل میں چین ، بنی نوع انسان کے ہم نصیب سماج کے تصور کی روشنی میں اپنی صلاحیت کے مطابق بین الاقوامی ترقیاتی تعاون کو فروغ دے گا اور عالمی ترقی کے لیےاپنا کردار ادا کرے گا۔وائٹ پیپر میں اس بات پر زور دیا گیا کہ شدید ترین عالمی چیلنجز کےتناظر میں مختلف ممالک کو اتحاد و تعاون کو مضبوط بنا کر پرامن تعاون ، برابری، کھلےپن ، مشترکہ مفادات اور مشترکہ اشتراک کے حامل ساتھی کے تعلقات کو مضبوط کرناچاہیے ، تاکہ  پائیدار استحکام اورترقی کو عمل میں لایا جاسکے ۔اب چین ترقی کے نئےمرحلے میں داخل ہورہا ہے اور ہمیشہ کی طرح اپنی خوشحالی کو دنیا کے دوسرے ممالک کے عوام کے ساتھ منسلک کر رہا ہے ۔ چین بین الاقوامی ترقیاتی تعاون کو مثبت طور پرجاری رکھے گا،  عالمی امن اور عالمی ترقی کے لیےتعمیری کردار ادا کرتا آیا ہے اور اداکرتا رہے گا ۔ چین عالمی قوانین و ضوابط کی حفاظت کرتا ہے نیز عوام کی مشترکہ خوشحالی میں اضافےاور بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تشکیل میں مزیدخدمات سرانجام دے گا۔
اس وائٹ پیپر سے  یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہچین  عالمی سطح پر اپنے  ذمہ دارانہ اور خیر خواہانہ کردارکے ذریعے  نہ صرف  تمام بنی نوع انسان کی ترقی اور آگے بڑھنے  کا خواہاں ہے بلکہ دنیا کا مزیدروشن ،بہتر، پرامن  اور محفوظ  مستقبل بھی چاہتاہے ۔

SHARE

LEAVE A REPLY