ماحول دوست ترقی کرنے والا چین ،دنیا کی پائیدار ترقی کے لیے بڑی قوت ہے

0

بائیس ستمبر دو ہزار بیس کو چینی صدر شی جن پھنگ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران اعلان کیا کہ دو ہزار تیس میں چین میں کاربن کا اخراج  نقطہ عروج پر پہنچ جائے گا اور دو ہزار ساٹھ  تک چین کاربن نیوٹرل ماحول  کے ہدف کی تکمیل  کی کوشش کرے گا۔کاربن کے  اخراج کے نقطہ عروج پر   پہنچنے  سے “زیرو اخراج” تک کا متوقع  دورانیہ  جرمنی اور برطانیہ کا نصف بنتا ہے جس سے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے چینی عزم کا اظہار ہوتا ہے۔ 

اعلی معیار کی ترقی کے راستے پر گامزن  چین کے لیے سرسبز ترقی اندرونی ضروریات سے مطابقت رکھتی ہے۔جیسا کہ چینی صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ ماحول دوست ترقی مستقبل  کی ضرور ت ہے۔چین کے سرکاری جائزے کے مطابق گزشتہ پانچ سال چین میں ماحولیاتی بہتری میں  کامیابی کے لحاظ سے سب سے نمایاں پانچ سال ہیں۔چین کئی  سال سے  دنیا میں قابل تجدید توانائی پر سب سے زیادہ سرمایہ لگانے والا ملک رہا ہے۔اپنی سرسبز ترقی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ چین توانائی کے کثیرالطرفہ انتظام اور عالمی تعاون میں بھی مثبت طور پر حصہ لے رہا ہے۔ 

جیسا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریز نے اپیل کی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے پوری دنیا کو سرگرم رہنا چاہیئے۔امید ہے کہ مزید ممالک صاف شفاف اور خوبصورت دنیا کی تعمیر اور آنے والی نسلوں کے لیے پائیدار ترقی کے “سرسبز بینک”  کے قیام کے لیے مل کر کوشش کریں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY