چین دیہی ترقی کوجدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پر عزم

0

چین میں دیہی ترقی کے حوالے سے حال ہی میں اختتام پزیر ہونے والی سالانہ مرکزی دیہی ورک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر شی جن پھنگ نے واضح کیا کہ زراعت ،دیہی امور اور کسانوں کو درپیش مسائل کا حل چینی کمیونسٹ پارٹی کی اولین ترجیح ہے۔ورک کانفرنس کا انعقاد ایک ایسے میں کیا گیا ہے جب چین انسداد غربت میں فتح کی بنیاد پر زرعی اور دیہی ترقی کے ایک نئے مرحلے کے لیے تیار ہے۔ چین کی کوشش ہے کہ سال 2021میں زرعی شعبے کو مزید معیاری بنانے کے لیے کوششیں کی جائیں ،دیہی علاقوں کو روزگار اور رہائش کے لیے موافق بنایا جائے اور کسانوں کی خوشحالی کو یقینی بنایا جائے۔

چین کی جانب سے ابھی حال ہی میں ملک میں غربت سے دوچار تمام 832 کانٹیوں کو غربت سے باہر نکالنے کے ہدف کی تکمیل کی گئی ہے، ایسے میں انسداد غربت میں حاصل شدہ کامیابیوں کا استحکام ، دیہی حیات کاری کا فروغ ، زراعت اور دیہی امور میں تیزترجدت کاری چینی حکومت  کی نمایاں ترین ترجیح ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ چین نے  اب تک مجموعی طور پر 80کروڑ سے زائد لوگوں کو غربت کی دلدل سے باہر نکالا ہے جو جدید انسانی تاریخ میں کسی معجزے سے کم نہیں۔چین کی کوشش ہے کہ آئندہ پانچ برسوں کے دوران انسداد غربت میں حاصل شدہ کامیابیوں کو مزید مستحکم کیا جائے اور ایسے پائیدار منصوبے ترتیب دیے جائیں جن کی بنیاد پر لوگ دوبارہ غربت کا شکار نہ ہو پائیں۔

 چینی قیادت نے سال 2020کے دوران ملک کی اقتصادی سماجی ترقی کے 14ویں پنج سالہ منصوبے کے  حوالے سے  تجویز پیش کی ہے۔سال 2021تا 2025تک ترتیب دیے جانے والے ترقیاتی منصوبے کی خاص بات دیرپا اہداف کا تعین ہے۔چین کی کوشش ہے کہ سال 2035تک ایک جدید سوشلسٹ ملک کی منزل حاصل کی جائے اور اس ضمن  میں سالانہ بنیادوں پر دیہی ترقی کی کلیدی اہمیت ہے ۔

ماضی میں چین کے دیہی علاقوں میں ناکافی بنیادی ڈھانچے کے مسائل درپیش تھے مگر  اس وقت شہروں کی طرز پر تمام دیہی علاقوں میں سڑکیں ،بجلی ،پانی ،ریڈیو ،ٹی وی اور انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب ہے۔ چینی حکومت کی کوشش رہی ہے کہ گاوں دیہاتوں کی سطح تک انٹرنیٹ کی رسائی کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے جس سے دیہی باشندوں کے معیار زندگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ 2019 تک ملک میں اٹھانوے فیصد دیہی علاقے  فائبر آپٹک نیٹ ورک اور 4G سے جڑ چکے ہیں۔ انٹرنیٹ کی بدولت شہروں میں کام کرنے والے افراد اپنے اہل خانہ سے مستقل رابطے میں رہ سکتے ہیں ، ای کامرس دیہی علاقوں میں تیزی سے فروغ پا رہی ہے  بالخصوص زرعی اجناس مثلاً پھل ،سبزیاں وغیرہ اب کسان با آسانی آن لائن فروخت کر سکتے ہیں۔کسانوں کی آمدن میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے اور انٹرنیٹ کی بدولت ذریعہ معاش کے دیگر طریقوں نے چین کے دیہی باشندوں کو صحیح معنوں میں ایک نئی امید دی ہے۔

 ای کامرس کے ساتھ ساتھ دیہی سیاحت کو بھی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بدولت نمایاں فروغ ملا ہے۔چینی حکومت کی سیاحت دوست پالیسیوں اور انٹرنیٹ نے دیہی باشندوں کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ دنیا کو اپنی خوبصورتی اور مختلف ثقافتی رنگ دکھا سکیں ۔جدید ٹیکنالوجی کی بدولت دیہی باشندوں کو  آن لائن تعلیم ،تربیت اور طبی نگہداشت کی سہولیات بھی میسر  ہیں۔ سالانہ مرکزی دیہی ورک کانفرنس میں خوراک کے تحفظ اور سالانہ بنیادوں پر خوراک کی پیداوار میں مضبوطی کے لیے اقدامات پر بھی زور دیا گیا۔یہ بات خوش آئند ہے کہ وبائی صورتحال کے باوجود چین نےزرعی ترقی کے شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔اناج کی پیداوار مسلسل سترہ برسوں سے شاندار رہی ہےاور  رواں برس اناج کی مجموعی پیداوار تقریباً 670ارب کلو گرام کی سطح تک پہنچ چکی ہے۔چین کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے شہروں کی طرز پر دیہی علاقوں میں یکساں تعمیر و ترقی چینی دانش کا بہترین مظہر ہے جو نہ صرف چینی عوام بلکہ دیگر دنیا کے بھی بہترین مفاد میں ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY