نئے دور میں نئی توانائی کا تصور ناصرف چین بلکہ تمام دنیا کی خوشحالی اور ماحول کی بہتری کا تصور ہے

0

 توانائی کی ترقی میں چین کی کامیابیوں اور توانائی کی اصلاحات کی  اہم پالیسیوں کو واضح کرنے کے لیے ریاستی کونسل کے انفارمیشن آفس نے “چین میں نئے دور میں توانائی” کے عنوان سے وائٹ پیپر جاری کیا ۔ 

اس وائٹ پیپر میں بتایا گیا ہے کہ چین توانائی کے استعمال کے طریقوں میں اصلاحات ، صاف اور متنوع توانائی کی فراہمی کے نظام کی تشکیل ، جدت پر مبنی توانائی کی حکمت عملی پر عمل درآمد ، توانائی کے نظام میں مزید اصلاحات ، اور بین الاقوامی توانائی تعاون کو بڑھانے کے لیے بیک وقت تمام محاذوں پر کام کر رہا ہے۔  آج جب دنیا کو  آب و ہوا کی تبدیلی ، ماحولیاتی خطرات ، پے در پے قدرتی آفات کے چیلنجز   نیز توانائی اور وسائل کی رکاوٹوں جیسے شدید عالمی مسائل کا سامنا ہے ایسے میں چین مشترکہ مستقبل کی حامل  عالمی برادری کے تصور کا عملی نمونہ لے کر آگے بڑھ رہا ہے اور معاشی و  معاشرتی ، دونوں میدانوں میں سبز اور کم کاربن ترقی پر  تیزی سے عمل پیرا ہے۔ 

وائٹ پیپر میں 2019 میں چین کی بنیادی توانائی کی پیداوار کے حوالے سے جو  ابتدائی اعدادو شمار دیئے گئے ہیں ان میں بتایا گیا ہے کہ  ۲۰۱۹ میں یہ پیداوار 3.97بلین ٹن کوئلے تک پہنچ گئی جس سے چین توانائی پیدا کرنے والا  دنیا کا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ناصرف پیداوار کے اعتبار سے سب سے بڑا ملک بلکہ توانائی کا بڑا صارف ملک چین، جو دنیا کی دوسری بڑی معیشت بھی ہے  اب  تیزی سے  سبز مستقبل کی طرف گامزن ہے۔چین نے توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیشِ نظر  فراہمی کی صلاحیت اور توانائی کی کھپت کے نظام کو  مزید بہتر بنایا ہے۔موثر توانائی کے استعمال اور اس کی  منتقلی بھی دنیا میں سب سے تیز رفتار رہی ہے ، چین نے “نان فوسیل فیول ” کو ترجیح دی  اور اعلی کاربن توانائی کے لیے  کم کاربن کو متبادل بنانے اور “فوسیل فیول”  کے قابل تجدید ذرائع کے حصول کی کوشش بھی کرتا رہا ہے ۔ سنہ 2019 تک کاربن کے اخراج کی شدت میں 2005 کے مقابلے میں 48.1 فیصد کمی واقع ہوئی تھی ۔اس کے ساتھ ساتھ ، قابل تجدید توانائی کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے اس کی بجلی کی پیداواری صلاحیت  2019 کے اختتام تک 790 ملین کلو واٹ تک پہنچ گئی ، جو عالمی سطح پر مجموعی طور پر 30 فیصد ہے۔چین نے 2010 کے بعد سے اب تک نئی توانائی کی پیداوار میں 818 بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے ، جو اسی عرصے کے دوران عالمی سطح پر مجموعی طور پر 30 فیصد ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ عالمی صورتِ حال کو دیکھا جائے تو  چین کے لئے یہ ایک مشکل انتخاب رہا ہے ، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی معیشت مجموعی طور پر زبوں حال کا شکار ہے ۔ تاہم ، یہ بات قابلِ ذکر بھی ہے اور قابلِ تعریف بھی کہ چین  معاشی توسیع کے اپنے طریقہ کار پر عمل کرنے کے حوالے سے ثابت قدم رہا اور ماحول پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا ۔ اس حوالے سے چینی قیادت کا کردار بے حداہم رہا جو بارہا اس بات کو دہراتی رہی کہ” شفاف پانی اور سرسبز پہاڑ چاندی اور سونے کے پہاڑوں کے مترادف ہیں’ اور اسی لیے عملی طور پر تمام تر منصوبوں اور  ترقیاتی حکمت عملی کا محور یہی تصور رہا اور اسی کے ارد گرد معاشی و معاشرتی ترقی کا تانا بانا بنا گیا ۔ چین عالمی توانائی کے انتظام و انصرام میں تعاون کو بڑھانے ، عالمی توانائی کی پائیدار ترقی کو فروغ دینے ، اور عالمی توانائی کی تحفظ کی خاطر  تمام ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے اور تمام دنیا کے لیے  متوازن اور مساوی ترقی اور ماحول دوست  خوشحال دنیا کی تعمیر  چین کا عزم ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY